Updated: January 08, 2026, 10:03 PM IST
| Sydney
ایشیز کے اختتام پر سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں عثمان خواجہ نے اپنے ٹیسٹ کریئر کو سنجیدگی اور اظہار تشکر کے ساتھ الوداع کہا۔ ۸۸؍ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے خواجہ کے لیے یہ لمحہ جذبات سے بھرپور تھا، جہاں فتح کی خوشی اور احساس رخصتی کا حسین امتزاج ایک ساتھ نظر آیا۔ یہ اختتام محض کرکٹ سے نہیں، بلکہ ایک ایسے سفر سے تھا جس میں صبر و تحمل، محنت اور عاجزی حاوی رہی۔
عثمان خواجہ۔ تصویر:آئی این این
ایشیز کے اختتام پر سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں عثمان خواجہ نے اپنے ٹیسٹ کریئر کو سنجیدگی اور اظہار تشکر کے ساتھ الوداع کہا۔ ۸۸؍ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے خواجہ کے لیے یہ لمحہ جذبات سے بھرپور تھا، جہاں فتح کی خوشی اور احساس رخصتی کا حسین امتزاج ایک ساتھ نظر آیا۔ یہ اختتام محض کرکٹ سے نہیں، بلکہ ایک ایسے سفر سے تھا جس میں صبر و تحمل، محنت اور عاجزی حاوی رہی۔
آسٹریلیا کے نامور بلے باز عثمان خواجہ اپنے شاندار بین الاقوامی سفر کے اختتامی لمحوں کو بڑی اننگز میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سڈنی میں کھیلے گئے ایشیز سیریز کے آخری مقابلے میں اگرچہ آسٹریلیا نے انگلینڈ کو پانچ وکٹوں سے شکست دی، تاہم خواجہ کی بلے بازی اس یادگار موقع پر توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔
جب عثمان خواجہ نے بطور بین الاقوامی کرکٹر آخری مرتبہ میدان چھوڑا تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ یہ لمحہ ان کے طویل اور یادگار ٹیسٹ کریئر کے اختتام کی علامت تھا۔ کریز پر قدم رکھتے ہی ساتھی بلے باز مارنس لبوشین نے آگے بڑھ کر عثمان خواجہ کو گلے لگایا اور بھرپور انداز میں خوش آمدید کہا۔ تاہم یہ لمحات ان کے بلے سے بڑی اننگز میں تبدیل نہ ہو سکے۔ پہلی اننگز میں وہ۱۷؍ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ دوسری اننگز میں صرف ۶؍رنز ہی اسکور کر پائے۔
میچ کے اختتام پر آؤٹ ہو کر پویلین لوٹتے ہوئے عثمان خواجہ نے میدان میں سجدہ کیا، جو ان کے کریئر کے آخری لمحات کی علامت بن گیا۔ اس جذباتی منظر کے دوران اسٹینڈز میں موجود ان کی اہلیہ ریچل خواجہ اپنی آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں اور یہ لمحہ دیکھنے والوں کے لیے بھی دل کو چھو لینے والا ثابت ہوا۔شائقین میں موجود اپنی اہلیہ ریچل اور اہلِ خانہ کو بوسہ بھیجنے کے چند لمحوں بعد خواجہ نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کی گھاس پر پیشانی رکھ دی، جہاں ان کے اعزاز میں لکھا ہوا تھا:"Thanks Uzzy #419"
یہ ایک پُرسکون اور باوقار لمحہ تھا، جس میں عثمان خواجہ نے شکریہ ادا کیا۔ آسٹریلیا کے کسی بھی ٹیسٹ کرکٹر نے اس انداز میں اپنے کریئر کا اختتام نہیں کیا تھا-ایک باوقار مسلمان، جو فخر کے ساتھ اپنے مذہب اور شناخت کو قبول کرتے ہوئے رخصت ہوا۔پرتھ میں کمر کے درد کے باعث وہ برسبین ٹیسٹ سے باہر ہو گئے تھے اور ایڈیلیڈ میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کے لیے بھی ان کا انتخاب نہیں ہوا۔ تاہم اسٹیو اسمتھ کی علالت نے انہیں دوبارہ موقع فراہم کیا، جہاں واپسی پر انہوں نے ۸۲؍ اور ۴۰؍ رن بنا کر مڈل آرڈر میں اپنی جگہ مضبوط کر لی۔
جمعہ کے روز خواجہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ۸۸؍ویں ٹیسٹ کے بعد ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ ایک ہفتے بعد ان کی ۱۵۹؍ویں اور آخری اننگز محض ۶؍ رن پر ختم ہو گئی، جب جوش ٹنگ کی گیند ان کے بلے سے ٹکرا کر وکٹوں سے جا لگی۔ ’’کیا ہم اس طرح جا رہے ہیں؟‘‘ خواجہ نے خود سے سوال کیا۔ یہ اختتام کسی کہانی جیسا نہیں تھا-نہ جیت کے رن، نہ ناٹ آؤٹ نصف سنچری-مگر ریٹائرمنٹ پریس کانفرنس میں خواجہ نے کہا کہ ان کی پریوں جیسی کہانی پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔آخری اننگز کا کم اسکور ان کے لیے معنی نہیں رکھتا تھا۔ جب۲۵۸۴۷؍ شائقین کھڑے ہو کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے تو اس لمحے کی گہرائی کا احساس خواجہ پر آشکار ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:’’دی بلف‘‘ سے پرینکا چوپڑہ کے کردار ’’بلڈی میری‘‘ کی جھلکیاں جاری
انہوں نے کہاکہ ’’میں ریچل اور اپنے خاندان کو بوسہ بھیج رہا تھا، اور جیسے جیسے میدان سے باہر آ رہا تھا، حقیقت اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔یہ میرے لیے شکریہ ادا کرنے کا آخری اظہار تھا۔ میں نے دکھایا کہ میں مطمئن ہوں، میں مکمل ہو چکا ہوں۔ اے خدا، تیرا شکر ہے ہر اس نعمت کے لیے جو تو نے مجھے دی۔میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے ۸۸؍ ٹیسٹ کھیلے، بہت سے رن بنائے،اور میں آخری بار صرف شکریہ کہنا چاہتا تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سنسنی خیز مقابلے میں پنجاب نے ممبئی کو ایک رن سے شکست دے دی
عام طور پر پُرسکون رہنے والے خواجہ نے تسلیم کیا کہ یہ موقع ان پر گہرے جذباتی اثرات مرتب کر رہا تھا۔ ۳۹؍ سالہ کرکٹر نے کہا کہ بین اسٹوکس کی قیادت میں انگلش ٹیم کی جانب سے گارڈ آف آنر ملنا ان کے لیے نہایت عاجزانہ تجربہ تھا، اور آخری دن کے کھیل سے پہلے ہی جذبات پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔ انہوں نے cricket.com.au سے گفتگو میں کہاکہ ’’یہ عجیب سا احساس تھا۔ ایک طرف مکمل سکون، دوسری طرف گھبراہٹ۔میری دل کی دھڑکن تیز تھی۔خوشی، تھوڑا سا خوف، اور پھر ہلکی سی اداسی یہ سب ایک ساتھ تھا۔ یہ ایک عجیب مگر خوبصورت سفر رہا ہے۔‘‘