• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے طلبہ کو دیگر اداروں میں منتقل کیا جائے گا:عمرعبداللہ

Updated: January 08, 2026, 10:03 PM IST | Srinagar

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ویشنو دیوی میڈیکل کالج بند ہونے سے متاثرہ طلبہ کو دیگر اداروں میں منتقل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ مرکز کو کالج بند کرکے طلبہ کے ساتھ ہونے والے ناانصافی پر غور کرنا چاہیے۔

Jammu and Kashmir Chief Minister Omar Abdullah. Photo: INN
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ۔ تصویر: آئی این این

پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ یونین ٹیریٹری کی حکومت شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کے بند ہونے سے متاثرہ طلبہ کی سپرنومری سیٹس کے ذریعے دیگر اداروں میں منتقلی میں مدد کرے گی۔سپرنومری سیٹس وہ اضافی سیٹیں ہوتی ہیں جو کسی تعلیمی ادارے میں منظور شدہ تعداد سے زیادہ  وضع کی جاتی ہیں۔نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے یہ بھی کہا کہ اگر ادارے میں معیار برقرار نہیں رکھا گیا تو ذمہ داری طے کی جانی چاہیے۔  واضح رہے کہ عبداللہ کا اعلان اس کے دو دن بعد آیا ہے جب نیشنل میڈیکل کمیشن نے ریاسی ضلع میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کو ۲۰۲۵ء -۲۶ء تعلیمی سال کے لیے اپنا ایم بی بی ایس کورس چلانے کی منظری واپس لے لی۔تاہم میڈیکل تعلیم کے اس ریگولیٹری باڈی نے فیکلٹی کی استعطاعت اور کلینیکل مواد سمیت اس کے انفراسٹرکچر میں خامیوں کو منظوری واپس لینے کی وجہ بتائی۔

یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں، قبائلیوں اور اقلیتوں کو ختم کرنا بی جے پی کا ایجنڈا ہے: پرکاش راج

یہ یاد رہے کہ دسمبر میں جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس امتحانات کی جانب سے اپنے ایم بی بی ایس پروگرام کی پہلی داخلہ لسٹ جاری ہونے کے بعد ادارے میں احتجاج ہوا تھا۔ اس احتجاج کی وجہ یہ تھی کہ ادارے کے پہلے ایم بی بی ایس بیچ کے لیے منتخب ہونے والے۵۰؍ امیدواروں میں سے ۴۴؍ کشمیری مسلمان اور جموں سے وابستہ ۶؍ ہندو تھے۔بعد ازاں چھ ہندو امیدواروں میں سے، صرف تین نے کورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔احتجاج شری ماتا ویشنو دیوی سنگرش سمیٹی کی قیادت میں ہوا تھا، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی، اس کی والدہ تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، اس کی الحاقی تنظیم بجرنگ دل اور شیو سینا کے ارکان شامل تھے۔ دیگر ہندووا گروپ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا تھا۔احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ پہلی داخلہ لسٹ منسوخ کی جائے اور ہندو طلبہ کو ترجیح دی جائے، کیونکہ ادارہ ویشنو دیوی مندر کو دیے گئے چندے کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔تاہم ہندو تنظیموں کا یہ مطالبہ آئین کے مخالف تھا، کیونکہ یہ اختیار اقلیتی حیثیت حاصل کرنے والے اداروں کو ہی حاصل ہے۔بعد ازاں عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر ریاستی وزیر صحت کے ساتھ بات چیت کی ہے منتخب ہونے والے طلبہ نے قومی اہلیت اور داخلہ امتحان (نیٹ) قانونی طور پر پاس کیا ہے اور ان میں قابلیت ہے، انہیں منتقل کرنا ہمارا قانونی فرض ہے تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بہار: نتیش کمار حجاب تنازع، ڈاکٹر نصرت پروین نے عہدہ سنبھال لیا: رپورٹ

تاہم، نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے کہا کہ مرکزی حکومت کو بھی شری ماتا وائشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس بند کرکے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ہونے والے ناانصافی پر غور کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ عمر عبداللہ نے مظاہرین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جو رواں سال کیلئے اجازت منسوخ ہونے کی وجہ بنے۔
دریں اثناء پی ٹی آئی کے مطابق عمر نے کہا کہ ،’’ہم شاید واحد جگہ ہیں جہاں ہمیں مکمل طور پر تیار شدہ میڈیکل کالج کی منظوری ملی اور پھر بھی ہم نے احتجاج کی وجہ سے اسے ایک سال کیلئے بند کرا دیا۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق عبداللہ نے کہا، ’’اس یونیورسٹی کی سربراہی کون کرتا ہے اور اس کا چانسلر کون ہے؟ ان سے بھی پوچھ تاچھ کی جانی چاہیے۔ صرف مجھ سے سوالات کرنے کے بجائے، ان سے بھی پوچھیں،اگر آج بی جے پی خوش ہے کہ یونیورسٹی معیارات برقرار رکھنے میں ناکام رہی، تو پھر ذمہ دار کون ہے اور کیا کارروائی کی جائے گی؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK