ہندوستان کی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی صنعت نے جون ۲۰۲۶ء میں روزانہ ۶؍ہزار سے زائد رجسٹریشنز کا سنگِ میل عبور کر لیا۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi
ہندوستان کی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی صنعت نے جون ۲۰۲۶ء میں روزانہ ۶؍ہزار سے زائد رجسٹریشنز کا سنگِ میل عبور کر لیا۔
ہندوستان کی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی صنعت نے جون ۲۰۲۶ء میں روزانہ ۶؍ہزار سے زائد رجسٹریشنز کا سنگِ میل عبور کر لیا۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، کم آپریٹنگ لاگت اور مختلف ماڈلز کی وسیع دستیابی نے الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کے رجحان میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں جون اس صنعت کی تاریخ کا دوسرا بہترین فروخت کا مہینہ ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:تیل کمپنیوں نے اے ٹی ایف کی قیمتوں میں تقریباً ۵؍ روپے فی لیٹر کی کمی کی
جون ۲۰۲۶ءمیں الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی رجسٹریشنز سال بہ سال ۶۴؍ فیصد اضافے کے ساتھ۱۸۱۱۶۸؍ یونٹس تک پہنچ گئیں، جیسا کہ واہن کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ گزشتہ سال جون میں یومیہ اوسط رجسٹریشن تقریباً۳۶۰۰؍ یونٹس تھی، جبکہ اس سال یہ تعداد ۶؍ہزار سے تجاوز کر گئی۔
جون، مارچ ۲۰۲۶ء کے بعد دوسرا بہترین مہینہ رہا، جب۱۹۲۵۰۸؍ رجسٹریشنز کے ساتھ اب تک کی بلند ترین ماہانہ فروخت ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس وقت مالی سال کے اختتامی خریداری کے رجحان اور مغربی ایشیا کے تنازع کے دوران خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث متوقع قیمتوں میں اضافے سے پہلے خریداری نے طلب میں اضافہ کیا تھا۔
کرسل ریٹنگز (Crisil Ratings ) کی ڈائریکٹر پونم اپادھیائے نے کہا’’ترقی کی بنیادی وجوہات میں کم آپریٹنگ لاگت، بہتر مصنوعات کی دستیابی اور معروف گاڑی ساز کمپنیوں(او ای ایمز) (OEMs) کی بڑھتی ہوئی شمولیت شامل ہے، جنہوں نے اپنی ڈسٹری بیوشن اور سروس نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنایا ہے۔‘‘
مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے کے بعد۲۸؍ فروری سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں تقریباً ۷؍ روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث زیادہ صارفین الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی رجسٹریشنز اپریل میں ۳۹ء۱؍ لاکھ، مئی میں ۷۳ء۱؍ لاکھ اور جون میں بڑھ کر ۸۱ء۱؍ لاکھ یونٹس تک پہنچ گئیں۔
پونم اپادھیائے کے مطابق’’ اگرچہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے خریداری کے فیصلوں کو تیز کیا ہے لیکن رجسٹریشنز میں مسلسل اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں اب عام صارفین کے لیے ایک مرکزی انتخاب بنتی جا رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جون ۲۰۲۶ء میں نئی دو پہیہ گاڑیوں کی مجموعی رجسٹریشنز میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ بڑھ کر۵ء۱۰؍ فیصد ہو گیا، جو ایک سال پہلے ۳ء۷؍ فیصد تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رجحان صرف ایندھن کی قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ :میکسیکو نے ۴۰؍ سال بعد ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی حاصل کر لی
کمپنی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر، سدھرشن وینو نے اپنی مالی سال ۲۰۲۶ء کی سالانہ رپورٹ میں کہا ’’توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کا رجحان مزید بڑھے گا۔‘‘ سدھرشن وینو نے کہا ’’ہمارا بیٹری ایز اے سروس ماڈل قیمت کے حوالے سے حساس صارفین کے لیے الیکٹرک گاڑی خریدنے کی سب سے بڑی رکاوٹ کو دور کرتا ہے۔‘‘