Updated: July 01, 2026, 7:03 PM IST
| New York
صنعتی ماہرین کے مطابق صارفین اب سونے کو صرف زیور کے طور پر نہیں بلکہ ایک مالی اثاثہ سمجھنے لگے ہیں، جسے قیمتیں سازگار ہونے پر نقد رقم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس رجحان سے ریفائنرز اور جیولرز کو ری سائیکل ہونے والے سونے کی مسلسل فراہمی بھی یقینی بنتی ہے۔
ہندوستان میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے باعث لوگ اپنے پرانے سونے کو تیزی سے فروخت کر رہے ہیں تاکہ اس سال کے اوائل میں قائم ہونے والی ریکارڈ سطحوں سے مزید کمی آنے سے پہلے منافع حاصل کیا جا سکے۔ یہ خدشہ کہ شاید سونے کی قیمت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، ہندوستانی گھرانوں کو اپنی ملکیت میں موجود سونا فروخت کرنے پر آمادہ کر رہا ہے، بجائے اس کے کہ وہ اسے مزید سنبھال کر رکھیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستان اب بھی سونے کی ضروریات کے لیے زیادہ تر درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
مالی سال ۲۰۲۶ءکے دوران ہندوستان نے تقریباً ۴ء۷۲؍ ارب امریکی ڈا لر مالیت کا سونا درآمد کیا جبکہ ۲۰۲۵ء میں ری سائیکل شدہ سونے کی مقدار کا تخمینہ ۱۲۵؍ سے ۱۵۰؍ ٹن لگایا گیا۔ صنعتی اندازوں کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو۲۰۲۶ء میں ری سائیکل شدہ سونے کی مقدار۲۰۰؍سے ۲۵۰؍ ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔ انڈیا بولین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (IBJA) کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے جون کے درمیان تقریباً ۵۰؍ٹن پرانا سونا فروخت کیا گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ۴۳؍ فیصد زیادہ ہے۔ سونے کی قیمت تقریباً ۴ء۱؍لاکھ روپے فی۱۰؍ گرام تک گرنے اور مزید کم ہو کر ۲ء۱؍ لاکھ روپے تک آنے کی توقعات کے باعث بہت سے صارفین نے اپنا سونا بیچ کر منافع حاصل کرنے کو ترجیح دی، بجائے اس کے کہ پرانے زیورات کو نئے زیورات سے تبدیل کرتے۔
یہ بھی پڑھئے:عامرخان کا ’’لگان‘‘ کے۲۵؍ سال مکمل ہونے پر میلبورن کا دورہ
سونے کے کاروبار میں نمایاں اضافہ
سونے کی فروخت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ہندوستان کی منظم گولڈ ری سائیکلنگ انڈسٹری کو بھی تقویت دی ہے۔ بلند قیمتوں نے لوگوں کو گھروں میں پڑا غیر استعمال شدہ سونا مارکیٹ میں لانے پر آمادہ کیا ہے، بجائے اس کے کہ وہ اسے بے کار پڑا رہنے دیں۔ صنعتی ماہرین کے مطابق صارفین اب سونے کو ایک مالی سرمایہ سمجھتے ہیں، جسے مناسب قیمت ملنے پر آسانی سے نقد رقم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے ریفائنرز اور جیولرز کو ری سائیکل شدہ سونے کی مسلسل فراہمی بھی ممکن ہوتی ہے۔
پرانا سونا خریدنے والی کمپنیاں بھی کاروبار میں نمایاں اضافے کی اطلاع دے رہی ہیں۔ متھوٹ ایکزم نے ملک بھر میں موجود اپنے ۱۰۰؍سے زائد گولڈ پوائنٹس کے ذریعے سونے کی وصولی میں ۴۰؍ فیصد اضافے کی اطلاع دی ہے۔ صنعتی رپورٹس کے مطابق اس اضافے نے ملک کی گولڈ ری سائیکلنگ انڈسٹری کو بھی فروغ دیا ہے کیونکہ گھروں میں پڑا ’’غیر فعال‘‘ سونا دوبارہ مارکیٹ میں آ رہا ہے، جس سے ریفائنرز اور جیولرز کے لیے مقامی سطح پر سونے کی اضافی فراہمی ممکن ہو رہی ہے۔
سونے کی قیمتیں دوبارہ کیوں بڑھ رہی ہیں؟
مارکیٹ ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں بحالی کی بڑی وجوہات میں سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرحِ سود سے متعلق توقعات پر نظرثانی، جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں، اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ :میکسیکو نے ۴۰؍ سال بعد ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی حاصل کر لی
بین الاقوامی مارکیٹ میں کومیکس (Comex) گولڈ فیوچرز کی قیمت بڑھ کر۸۰ء۴۰۴۴؍ امریکی ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ تاہم خدشات اب بھی برقرار ہیں کیونکہ ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔