Updated: July 01, 2026, 7:03 PM IST
| Chennai
تمل ناڈو حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کے گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں سے رجوع کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاست کو۱۹۷۶ء کے سرکاری حکم نامے کو نافذ کرتے ہوئے گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے خلاف ریاست نے خصوصی اجازت نامے کی درخواست (ایس ایل پی) دائر کی ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے تھاتصویر: ایکس
تمل ناڈو حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کے گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں سے رجوع کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاست کو۱۹۷۶ء کے سرکاری حکم نامے کو نافذ کرتے ہوئے گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے خلاف ریاست نے خصوصی اجازت نامے کی درخواست (ایس ایل پی) دائر کی ہے۔یہ درخواست ہائی کورٹ میں۲۷؍ مئی کی اس ہدایت کو چیلنج کرتی ہے جس میں حکام کو یہ یقینی بنانے کو کہا گیا تھا کہ تمل ناڈو میں کہیں بھی کوئی گائے یا بچھڑا ذبح نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی درخواست میں اندو مکّل کچھی کے یوتھ ونگ سیکریٹری کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور دیگر افسران کو جوابدار بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: کسان بیل کے ساتھ خود ہل جوتنے پر مجبور
واضح رہے کہ جسٹس جی آر سوامی ناتھن اور وی لکشمی نارائنن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے۲۷؍ مئی کے حکم میں چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی کو ہدایت کی تھی کہ وہ بقرعید کے موقع پر اور اس کے بعد ریاست میں کسی بھی گائے یا بچھڑے کے ذبیحہ کو یقینی طور پر روکیں۔ بعد ازاں بنچ نے دودھ کی پیداوار اور دیہی معیشت کے مفاد میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے لیے جاری کردہ۱۹۷۶ء کے سرکاری حکم نامے پر انحصار کیا۔اپنے فیصلے میں جسٹس سوامی ناتھن نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل۴۸؍ ریاست کو گایوں، بچھڑوں اور دیگر دودھ دینے والے اور بوجھ ڈھونے والے مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی کے اقدامات کرنے کا پابند کرتا ہے، اور انہوں نے دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کا بھی حوالہ دیا جن میں گائے کی تہذیبی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: او بی سی ریزرویشن ۱۷؍ سے کم ہو کر ۷؍ فیصد، ترمیمی بل منظور
ذہن نشین رہے کہ زیادہ تر ہندوستانی ریاستوں میں گائے کا ذبیحہ ممنوع یا سختی سے محدود ہے، تاہم پابندیوں کی حد مختلف ہے کیونکہ یہ موضوع ریاستی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اگرچہ گائے کے ذبیحہ کو منظم کرنے والے بہت سے ریاستی قوانین بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے سے کئی دہائیوں پہلے نافذ کیے گئے تھے، تاہم بی جے پی کی زیرِ قیادت حکومتوں نے عموماً نفاذ کو مضبوط کیا ہے، سزاؤں میں اضافہ کیا ہے، اور خاص طور پر بقرعید (عید الاضحی) کے موقع پر نگرانی تیز کی ہے۔تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ سخت نفاذ غیر متناسب طور پر مسلم برادریوں کو متاثر کرتا ہے، مذہبی رسومات میں مداخلت کرتا ہے، قصابوں، مویشی تاجروں اور چمڑے کی صنعت سے وابستہ افراد کی روزی روٹی کو نقصان پہنچاتا ہے، اور گائے کی خود ساختہ رکھوالی(ویجیلنٹ ازم) کے واقعات میں اضافہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ منتخب نفاذ اور بقرعید جیسے تہواروں کے ارد گرد سخت کارروائی فرقہ وارانہ کشیدگی کو گہرا کرتی ہے اور مذہبی آزادی، قانون کے سامنے مساوات اور قانونی طریقہ کار پر تشویش پیدا کرتی ہے۔