Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کو اے آئی آربیٹل ڈیٹا سینٹر سیٹیلائٹ ملے گا

Updated: May 04, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں اے آئی آربیٹل ڈیٹا سینٹر سیٹیلائٹ تیار کرنے کے لیے اسپیس ٹیک کمپنی پکسل اور اے آئی اسٹارٹ اپ سروَم نے شراکت داری کی ہے۔ یہ معلومات دونوں کمپنیوں نے دی ہے۔

Data Center.Photo:INN
ڈیٹا سینٹر۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان میں اے آئی آربیٹل ڈیٹا سینٹر سیٹیلائٹ تیار کرنے کے لیے اسپیس ٹیک کمپنی پکسل اور اے آئی اسٹارٹ اپ سروَم نے شراکت داری کی ہے۔ یہ معلومات دونوں کمپنیوں کی جانب سے پیر کے روز دی گئی۔اس شراکت داری کے تحت پکسل پاتھ فائنڈر سیٹیلائٹ کو ڈیزائن، تیار، لانچ اور آپریٹ کرے گی، جبکہ سروَم مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بنیاد فراہم کرے گا، جس سے آن بورڈ چلنے والے فل اسٹیک لینگویج ماڈل کے ذریعے براہِ راست مدار میں ٹریننگ اور انفرنس دونوں ممکن ہو سکیں گے۔
۲۰۰؍کلوگرام کیٹیگری کا پاتھ فائنڈر سیٹیلائٹ، جس کے ۲۰۲۶ء کی چوتھی سہ ماہی تک مدار میں پہنچنے کی توقع ہے، خلا میں کمپیوٹنگ صلاحیتوں کو تیزی سے آگے بڑھانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔روایتی سیٹیلائٹ سسٹمز کے برعکس جو کم طاقت والے پروسیسرز پر انحصار کرتے ہیں، پاتھ فائنڈر میں زمین پر موجود اے آئی انفراسٹرکچر جیسے ڈیٹا سینٹر لیول جی پی یوز ہوں گے، جو خلا میں براہ راست ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کو ممکن بنائیں گے۔
اس سیٹیلائٹ میں پکسل کا جدید ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ کیمرہ بھی نصب ہوگا، جس سے یہ دنیا کے ان پہلےسیٹیلائٹس میں شامل ہوگا جو ہائی ریزولوشن ہائپر اسپیکٹرل ڈیٹا حاصل کرنے اور جدید اے آئی ماڈلز کے ذریعے مدار میں ہی اس کا تجزیہ کرنے کے قابل ہوگا۔ اس سے زمین پر بڑے پیمانے پر خام ڈیٹا بھیجنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں ریئل ٹائم معلومات، تیز فیصلے اور ماحولیاتی نگرانی، وسائل کے انتظام اور بنیادی ڈھانچے کی نگرانی جیسے شعبوں میں استعمال ممکن ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:پری میٹ گالا تقریب میں ایشا امبانی کا لباس توجہ کا مرکز، ۲۶؍ ریاستوں کی نمائندگی


پکسل کے سی ای ا ویس احمد نے کہا کہ توانائی، زمین اور توسیع پذیری سے متعلق رکاوٹوں کے باعث زمینی انفراسٹرکچر کے لیے آربیٹل ڈیٹا سینٹر ایک نیا رخ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمسی توانائی سے چلنے والا اور ڈیٹا ذرائع کے قریب موجود خلا پر مبنی کمپیوٹنگ کئی حدود کو ختم کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کی شریک اداکار پوجا ڈڈوال، ممبئی کی ایک چال سے ٹفن سروس چلارہی ہیں


سروَم کے سی ای او پرتُیوش کمار نے کہا کہ یہ شراکت داری کمپنی کے خودمختار اے آئی پلیٹ فارم کو زمینی نظاموں سے آگے خلا تک وسعت دیتی ہے، جس سے ہندوستان میں تیار کردہ اے آئی ماڈلز غیر ملکی کلاؤڈ انفراسٹرکچر سے آزاد ہو کر کام کر سکیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ مدار میں مقامی ذہانت (انٹیلی جنس) کی تعمیر تکنیکی خودمختاری کی کلید ہے۔ یہ مشن سخت خلائی ماحول میں ریئل ٹائم اے آئی انفرنس، بجلی کے انتظام، حرارتی کارکردگی اور ڈیٹا ورک فلو کا بھی تجربہ کرے گا، جس سے مستقبل کے اے آئی آربیٹل ڈیٹا سینٹر سسٹمز کی بنیاد رکھی جائے گی۔سیٹیلائٹ کی تیاری پکسل کی آنے والی گیگا پکسل سہولت میں کی جائے گی، جسے ۱۰۰؍ سیٹیلائٹس تک پیداوار بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK