• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے ایکسپورٹرس میں خوشی کی لہر

Updated: February 04, 2026, 5:30 PM IST | Agency

چاول اور سمندری خوراک کی درآمدات بحال ہوں گی، ٹیکسٹائل شعبہ میں بھی جوش وخروش، انڈسٹری نے خیرمقدم کیا، کہا: ملک کے ترقیاتی عزائم کو تقویت ملے گی۔

After months of negotiations, the trade deal between India and the US has been finalized. Picture: INN
کئی مہینوں کے مذاکرات کے بعد ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ کو حتمی شکل دی جاسکی ہے۔ تصویر: آئی این این
ہند امریکہ تجارتی معاہدہ کو حتمی شکل  دیئے جانے  اور ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف  ۲۵؍ فیصد سے گھٹا کر ۱۸؍ فیصد کرنے  کے اعلان کا انڈسٹری اوراس سے جڑی تنظیموں  نے پرجوش خیر مقدم کیا ہے۔  امید کی جارہی ہے کہ اس سے  ہندوستانی مصنوعات کی عالمی مسابقت بڑھانے اور امریکی بازاروں  تک  رسائی میں  اضافہ ہوگا۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے صدر راجیو میمانی  کے مطابق ’’ ٹیرف میں کمی دونوں ملکوں کے درمیان معاشی شراکت داری کو آگے بڑھانے  کی جانب  اہم قدم ہے۔‘‘فیڈریشن آف انڈین کامرس اینڈ انڈسٹری  کے صدر اننت گوئنکا کا کہنا ہے کہ مہینوں کی مذاکراتی کوششوں کے بعد  ہندوستانی اشیا پر  ٹیرف میں کمی  دنیا  کے سب سے بڑے درآمدی بازار میں  ہندوستانی  برآمدات کیلئے  مسابقت کا بہترماحول ملےگا۔ امید کی جارہی ہے کہ  اس  سے  مینوفیکچرنگ، تکنالوجی، صحت اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
 سمندری خوراک کا ایکسپورٹ بحال ہوگا
تجارتی معاہدہ  پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئےسی فُوڈ ایکسپورٹرس اسوسی ایشن آف انڈیا (ایس ای اے آئی) نے منگل کو امید ظاہر کی کہ اس سے امریکہ کیلئے ہندوستان سے سمندری  خوراک کی برآمدات  بحال ہو جائیں گی۔ واضح  رہے کہ تنازع کی وجہ سے  اپریل تا نومبر امریکہ کو مچھلی،جھینگے اوردیگر کی برآمدات مقدار کے لحاظ سے۱۵؍ فیصد کم ہو کر۲؍لاکھ  ایک ہزار ۵۰۱؍ ٹن  ٹن رہ گئی تھیں جبکہ مالیت کے لحاظ سے۱ء۸۴؍ ارب ڈالر کے مقابلے میں۱ء۷۲؍ ارب ڈالر ہوگئی  ہے۔ایس ای اے آئی کے جنرل سیکریٹری   کے این راگھون  کے مطابق ’’ہمیں توقع ہے کہ ٹیرف۱۸؍فیصد ہو جانے سے ہم سابقہ سطحوں پر واپس آ جائیں گے۔‘‘ واضح رہے کہ چین اور یورپی یونین کے بعد  امریکہ  ہندوستان کی سمندری خوراک کا سب سے بڑا اِمپورٹر ہے۔ اس میں منجمد مچھلی کل برآمدات کا۸۳؍ فیصد ہے۔
ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت میں جوش وخروش
امریکہ کے ساتھ معاہدہ طے پاجانے اور ٹیرف میں کمی کی امیدوں کااثر  ٹیکسٹائل اور چمڑے کے شیئرس پر  نظر آیا۔ ان کے شیئرکی قیمتوں میں منگل کی صبح۲۰؍ فیصد تک کا اضافہ ہوا۔ چمڑے اور فٹ ویئر(چپل جوتے) کے شعبے میں ’بھارتیہ انٹرنیشنل‘  کے شیئر کی قیمتوں میں ۱۰ء۷۰؍  فیصد، میور یونی کوٹرس کے شیئر میں ۷ء۳۹؍ فیصد، باٹا انڈیا کے شیئر میں ۵؍ فیصد  اور میٹرو برانڈس  کے حصص میں ۳ء۹۶؍ فیصد کااضافہ ہوا۔تجارتی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے امریکہ نے ہندوستانی  اشیاء  پر ۲۵؍ فیصد ٹیرف اور روسی تیل خریدنے کی وجہ سے  جرمانہ کی شکل میں   ۲۵؍ فیصد ٹیرف عائد کررکھا ہے۔ اس طرح  ہندوستانی اشیاء پر ۵۰؍ فیصد ٹیرف لگنے کی وجہ سے  درآمدات بری طرح متاثر تھیں۔ 
چاول کے ایکسپورٹرس نے خیر مقدم کیا
  چاول  ایکسپورٹرس  نے امریکہ کی جانب سے ٹیرف۲۵؍ فیصد سے کم کر کے۱۸؍ فیصد کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا  ہے کہ اس سے مسابقت اور طلب بڑھنے میں مدد ملے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب  ہندوستان چاول کی  ریکارڈ پیداوار کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انڈین رائس ایکسپورٹرز فیڈریشن (آئی آر ای ایف) نے کہا کہ تجارتی معاہدہ ایسے وقت پر حتمی شکل کو پہنچا ہے جب   ہندوستان ۲۶-۲۰۲۵ء کی فصل میں۱۴۹؍ ملین ٹن کی ریکارڈ پیداوار کی توقع کر رہا ہے۔ آئی آر ای ایف نے کہا کہ ’’ہندوستانی  زرعی مصنوعات کا عالمی سپلائی چین میں اہم  رول ہے  اور حالیہ برآمداتی رجحانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ ٹیرف کے باوجود طلب برقرار رہی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK