Updated: February 04, 2026, 7:04 PM IST
| Rome
اٹلی کے ایک چرچ میں فرشتے کے چہرے کی بحالی کے بعد تنازع پیدا ہو گیا ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ نیا چہرہ وزیر اعظم جورجیا میلونی سے مشابہ ہے۔ بحالی کرنے والے مصور نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف خراب شدہ تصویر درست کرنے کو کہا گیا تھا اور اس میں ان کے ذاتی یا سیاسی ارادے کا عمل دخل نہیں ہے۔
اٹلی میں ایک چرچ کی دیوار پر بنے فرشتے کے چہرے کی حالیہ بحالی نے عوامی اور سوشل میڈیا سطح پر بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ بحال شدہ فرشتے کا چہرہ اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی سے غیر معمولی حد تک مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب چرچ میں موجود پینٹنگ کے مرمت شدہ حصے کی تصاویر منظر عام پر آئیں۔ ان تصاویر کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور بعض آرٹ ناقدین نے دعویٰ کیا کہ فرشتے کے چہرے میں جان بوجھ کر موجودہ وزیر اعظم کی شباہت شامل کی گئی ہے۔ تاہم چرچ انتظامیہ اور بحالی کرنے والے مصور نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ بحالی کا کام کرنے والے اطالوی مصور نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں خراب شدہ حصے کو ٹھیک کروں، اور میں نے وہی کیا۔ میں نے کسی سیاسی شخصیت کو ذہن میں رکھ کر کوئی تبدیلی نہیں کی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یورپ کو زیادہ خود مختار اور آپس میں پوری طرح سے متحدہ ہو جانا چاہئے:جرمنی
ان کا کہنا تھا کہ تصویر کا اصل چہرہ وقت کے ساتھ خراب ہو چکا تھا، جس کے باعث چہرے کی تفصیلات واضح نہیں رہیں، اور بحالی کا مقصد صرف پینٹنگ کو اس کی سابقہ حالت کے قریب لانا تھا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر وزیر اعظم جیسی خصوصیات شامل کیں۔ چرچ کے حکام کے مطابق بحالی کا کام معمول کے تحفظاتی عمل کا حصہ تھا اور اس میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت شامل نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہبی فن پارے کو سیاسی تناظر میں دیکھنا درست نہیں اور یہ شباہت محض عوامی تاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود تنازع ختم نہیں ہوا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بحال شدہ فرشتے کے چہرے کے خدوخال، بالوں کی ساخت اور تاثرات وزیر اعظم میلونی سے واضح مشابہت رکھتے ہیں، جس سے سوال اٹھتا ہے کہ آیا بحالی کے دوران فنکار کی ذاتی لاشعوری ترجیحات شامل ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا قتل، معاشی و سیاسی صورتحال متاثر
اس معاملے نے اٹلی میں مذہبی فن کی بحالی اور اس کے اصولوں پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ آرٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخی یا مذہبی فن پاروں کی بحالی کے دوران اصل شکل کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے، کیونکہ معمولی تبدیلی بھی عوامی ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔ اطالوی ثقافتی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا بحالی کے کام کے لیے مزید سخت رہنما اصول متعارف کرانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیاسی شخصیات کی تصاویر اور شباہتیں عوامی حساسیت رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ پر فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی رویہ، منظم دہشت گردی ہے: حماس
تاحال اطالوی حکومت یا وزیر اعظم جورجیا میلونی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ چرچ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ تنازع کو بڑھانا نہیں چاہتے اور بحالی کے کام کو مذہبی اور ثقافتی تناظر میں ہی دیکھتے ہیں۔ یہ واقعہ اٹلی میں فن، مذہب اور سیاست کے باہمی تعلق پر ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے، جہاں ایک بحالی شدہ فرشتہ غیر متوقع طور پر عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔