ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل ایک امریکی لڑاکا طیارے نے بحیرہ عرب میں ایرانی ڈرون کو مار گرایا جو طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کے قریب آ گیا تھا۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال ہنوز نازک ہے۔
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 7:04 PM IST | Washington/Tehran
ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل ایک امریکی لڑاکا طیارے نے بحیرہ عرب میں ایرانی ڈرون کو مار گرایا جو طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کے قریب آ گیا تھا۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال ہنوز نازک ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے دن بیان دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ”اس وقت مذاکرات جاری ہیں۔“ یہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ کے باوجود ایک ممکنہ سفارتی آغاز کا اشارہ ہے۔ وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ان مذاکرات کے بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان گفتگو جاری ہے۔ انہوں نے مذاکرات کی نوعیت، ایجنڈے یا شرکاء کی وضاحت کیے بغیر کہا کہ ”وہ مذاکرات کر رہے ہیں۔“
ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ماضی کی فوجی کارروائی کے تناظر میں پیش کیا۔ جون ۲۰۲۵ء کے امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”انہیں کچھ عرصہ پہلے کچھ کرنے کا موقع ملا تھا، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا۔ اور ہم نے (آپریشن) مڈ نائٹ ہیمر کیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ دوبارہ ایسا کچھ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، بلکہ وہ مذاکرات کرنا چاہیں گے۔“
مشرق وسطیٰ میں حالات نازک
ٹرمپ نے مذاکرات کے ’جاری‘ ہونے کی تصدیق اس وقت کی جب مشرق وسطیٰ میں حالات نازک ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل ایک امریکی لڑاکا طیارے نے بحیرہ عرب میں ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا جو طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کے قریب آ گیا تھا۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق سفارت کاری کی راہیں تلاش کر رہے ہیں لیکن خطے میں صورتحال ہنوز نازک ہے۔
ٹرمپ کا بیان، ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے اسرائیل دورے کے بعد سامنے آیا۔ اس دورے میں وٹکوف نے مغربی یروشلم میں وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو سے ملاقات کی تاکہ ایران اور ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ان کی گفتگو میں ایران کا معاملہ نمایاں رہا۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرین جنگ: ٹرمپ کے امن اشارے کے بعد روس کا یوکرین پر بڑا میزائل حملہ
ایران کی سفارت کاری کے لیے محدود آمادگی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سفارت کاری کے لیے محتاط آمادگی کا اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو امریکہ کے ساتھ ”منصفانہ اور مساوی مذاکرات“ آگے بڑھانے کی ہدایت دی ہے، لیکن صرف مخصوص شرائط کے تحت۔ پزشکیان نے کہا کہ ”میں نے وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ اگر مذاکرات کیلئے مناسب ماحول موجود ہو جو دھمکیوں اور غیر معقول توقعات سے پاک ہو تو وہ وقار، دانشمندی اور مصلحت کے اصولوں کی رہنمائی میں منصفانہ اور مساوی مذاکرات کو آگے بڑھائیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی مذاکرات ایران کے قومی مفادات کے عین مطابق ہونی چاہیے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں۔ ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ (آئی آر این اے) کو بتایا کہ ”اگلے چند دنوں میں“ گفتگو کی منصوبہ بندی جاری ہے اور مقام کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت جاری ہے۔
بقائی نے کہا کہ کئی علاقائی ممالک نے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے اس عمل میں سہولت پیدا کرنے کے لیے ”دوست ممالک“ کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم، انہوں نے وقت اور مقام کے حوالے سے میڈیا کی قیاس آرائیوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تفصیلات کا اعلان ان کے طے پانے کے بعد ہی کیا جائے گا۔