امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہندوستان کو امریکہ کا ایک اہم اقتصادی، تجارتی اور کاروباری شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ جلد طے پانے کی امید ہے۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہندوستان کو امریکہ کا ایک اہم اقتصادی، تجارتی اور کاروباری شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ جلد طے پانے کی امید ہے۔
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہندوستان کو امریکہ کا ایک اہم اقتصادی، تجارتی اور کاروباری شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ جلد طے پانے کی امید ہے۔ ہندوستان کے دورے کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات اور بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی ہے، اس لیے امریکہ کے لیے اس کی اقتصادی اور تجارتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
Pleased to meet US @SecRubio in Mumbai today. We shared views on further advancement of our ties, focusing on trade, energy, technology, defence and people to people ties. Also exchanged views on regional developments. 🇮🇳 🇺🇸 https://t.co/KVrFPvWm0K
— Dr. S. Jaishankar (@DrSJaishankar) October 20, 2026
یہ بھی پڑھئے:پرتگال کی قومی ٹیم چھوڑنے پر کرسٹیانو رونالڈو پر ۳۰؍ دن کی پابندی، جرمانہ بھی عائد
روبیو نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کی پیش رفت کے بارے میں کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ براہِ راست تجارتی مذاکرات نہیں کرتا، تاہم وہ اس عمل سے منسلک ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور چند چھوٹے معاملات باقی ہیں، جنہیں جلد حل کیے جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باقی امور پر اتفاق رائے کے بعد معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکتی ہے۔ ان کے اس بیان کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مضبوط ہونے اور دوطرفہ تجارت میں مزید وسعت کے امکانات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’جیلر ۲‘‘ ۲۰۲۶ء کی تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندوستانی فلم بن گئی
مجوزہ تجارتی معاہدے سے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت، کاروباری سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے یہ معاہدہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے تجارتی رکاوٹوں میں کمی، منڈیوں تک بہتر رسائی اور کاروباری اداروں کے لیے نئے امکانات پیدا کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ تاہم، معاہدے کی حتمی شرائط، نفاذ کی تاریخ اور باقی معاملات کی تفصیلات ابھی واضح ہونا باقی ہیں۔
دوسری جانب، مارکو روبیو نے بحیرۂ اسود میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کئی ماہ سے اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا آ رہا ہے اور امریکی کمپنیوں نے اپنے مال بردار جہازوں اور سامان پر حملوں کی شکایات بھی کی ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات کاروباری سرگرمیوں اور بین الاقوامی مال برداری پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ مارکو روبیو ۲۰؍ سے ۲۲؍ اکتوبر تک ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ اس دوران وہ ممبئی کے علاوہ گجرات کے جام نگر بھی جائیں گے۔ ان کے دورے کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی روابط، اقتصادی تعاون اور تجارتی مذاکرات کے حوالے سے اہمیت دی جا رہی ہے۔