ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے میں مزید تاخیر کی صورت میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) ریپو ریٹ میں مزید کمی کر سکتا ہے۔ یہ جانکاری گولڈمین ساخس کی جانب سے دی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 5:08 PM IST | Mumbai
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے میں مزید تاخیر کی صورت میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) ریپو ریٹ میں مزید کمی کر سکتا ہے۔ یہ جانکاری گولڈمین ساخس کی جانب سے دی گئی ہے۔
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے میں مزید تاخیر کی صورت میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) ریپو ریٹ میں مزید کمی کر سکتا ہے۔ یہ جانکاری گولڈمین ساخس کی جانب سے دی گئی ہے۔
گولڈمین ساخس نے کہا کہ اگر تجارت سے متعلق چیلنجز مالی سال ۲۰۲۷ء کی پہلی سہ ماہی میں بھی برقرار رہتے ہیں اور اس سے ترقی پر زیادہ منفی اثر پڑتا ہے، تو آر بی آئی معیشت میں ترقی کو سہارا دینے کے لیے شرحِ سود میں کمی کر کے مالیاتی پالیسی کو مزید نرم بنا سکتا ہے۔
بروکریج کے مطابق، ہندوستان میں کھپت کی بحالی دیہی علاقوں اور خاص طور پر کم آمدنی والے شہری طبقے میں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اچھی فصل، کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کو ریاستی سطح پر چلنے والی اسکیموں کے تحت ملنے والی نقد رقم اور جی ایس ٹی میں کمی سے نچلے طبقے کے صارفین کو فائدہ پہنچا ہے، جس سے کھپت میں بہتری آ رہی ہے۔ گولڈمین ساخس کا ماننا ہے کہ یہ عوامل عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود طلب میں بتدریج بہتری لانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
این ڈی ٹی وی پروفٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں گولڈمین ساخس کے چیف انڈیا اکنامسٹ، شانتنو سین گپتا نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ تجارتی معاہدے کو مالی سال ۲۰۲۷ء کی پہلی سہ ماہی تک حتمی شکل دیئے جانے کی امید ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ معاہدہ اس مدت سے آگے بڑھ کر اگلے مالی سال کی دوسری ششماہی تک مؤخر ہو جاتا ہے تو اس سے اقتصادی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی: سرفراز کے بعد گیند بازی میں مشیرخان کا جلوہ، ممبئی کی ۹؍ وکٹ سے فتح
ایسی صورتحال میں، حکومت اور آر بی آئی کو معیشت کو سہارا دینے کے لیے پالیسی اقدامات کرنے پڑ سکتے ہیں۔ سین گپتا نے بتایا کہ اگرچہ ہندوستان میں مجموعی کھپت کا منظرنامہ مثبت ہے، لیکن آمدنی کے مختلف طبقات میں صورتحال مختلف ہے۔ اعلیٰ آمدنی والے اور خوشحال صارفین کی کھپت میں کووڈ۱۹؍ وبا کے بعد مضبوط اضافہ دیکھنے میں آیا، لیکن اب اس میں سست روی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روزگار کے مواقع سے متعلق خدشات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث متوسط آمدنی والے طبقے کو چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مونی رائے کے ساتھ ہریانہ میں دست درازی، ضعیف شیدائی نے زبردستی کی
پالیسی محاذ پر، مرکزی حکومت نے مالی سال۲۰۲۶ء میں مالی استحکام کے عمل میں نرمی برتی اور انکم ٹیکس اور کھپت ٹیکس میں کمی کے ذریعے کھپت کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی۔ اس سے ہندوستان کو کیلنڈر سال ۲۰۲۵ءمیں ۶ء۷؍ فیصد کی مضبوط حقیقی جی ڈی پی نمو حاصل کرنے میں مدد ملی تاہم، نامیاتی (نومینل) جی ڈی پی کی شرحِ نمو، وبا کے دور کو چھوڑ کر، گزشتہ چھ برسوں کی کم ترین سطح پر آ گئی، جس کی بنیادی وجہ انتہائی کم افراطِ زر تھی۔