نئی دہلی کو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے ٹیرف کے نئے ڈھانچے کا انتظار، مزید کئی ممالک کے ساتھ معاہدوں کیلئے بات چیت۔
ہندوستان اور امریکہ ۔ تصویر:آئی این این
ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ عائد کئے گئے من مانے ٹیرف کو امریکی سپریم کورٹ کے ذریعہ کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد ہند -امریکہ تجارتی معاہدہ پر دستخط ٹل گئے ہیں۔ معاہدہ پر اس وقت باضابطہ طور پر دستخط کئے جائیں گے جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ عالمی سطح پر ٹیرف کا نیا ڈھانچہ نافذ کر دےگا۔ یہ اطلاع پیر کو کامرس سیکریٹری راجیش اگروال نے دی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’اس وقت ہم امریکہ کے ساتھ تفصیلات پر بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے بھی ملتوی کرنے کا مشورہ دیاتھا
یا درہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ اور ہندوستان ایک تجارتی معاہدہ کے فریم ورک پر متفق ہوگئے تھے جس کے تحت ہندوستانی اشیاء پر ۱۸؍ فیصد ٹیرف عائد ہونا تھا جبکہ امریکہ کی زیادہ تر اشیاء پر ہندوستان میں ٹیرف یا تو بالکل نہیں یا بہت معمولی عائد کیا جانا تھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدہ سے اور ٹرمپ کے ذریعہ دھاندلی آمیز ٹیرف عائد کئے جانےسے قبل امریکہ میں ہندوستانی اشیاء پر ۳؍ سے ۴؍ فیصد تک کا ٹیرف عائد ہوتا تھا۔ اپوزیشن جو مودی سرکار پر امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے کا الزام عائد کررہاتھا، کے لیڈر راہل گاندھی نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کو معاہدہ ملتوی کرنے اوراس کی شرائط نئے سرے سے طے کرنے کا مشورہ دیاتھا۔
سپریم کورٹ کےذریعہ ٹیرف کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت’’کچھ ٹیرف اقدامات‘‘ ختم کر دیئے ہیں اور امریکہ میں داخل ہونے والی اشیاء پر ۱۰؍ فیصد کا’’عارضی درآمدی سرچارج‘‘بطور ایڈ ویلیورم ڈیوٹی عائد کیا تھا جسے بعد میں اس بڑھا کر۱۵؍فیصد کر دیا ۔
آزادانہ تجارت کےمزید ۶؍ معاہدوں پر گفتگو
راجیش اگروال نے بتایا کہ نئی دہلی اس وقت واشنگٹن کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدہ کو حتمی شکل دینے کیلئے بات چیت کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے علاوہ ہندوستان مختلف ممالک اور علاقائی گروپوں کے ساتھ ۶؍ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) پر بھی بات چیت کر رہا ہے تاکہ تجارتی شراکت داری کو وسعت دی جا سکے۔
ہندوستان کی برآمدات میں کمی، خسارہ بڑھ گیا
کامرس سیکریٹری نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اب بھی ہندوستانی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے جبکہ چین ہندوستان کی درآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی برآمدات میں فروری میں معمولی کمی درج کی گئی ہے۔ ۰ء۸۱؍ فیصد کی کمی کے ساتھ یہ اب ۳۶ء۶۱؍ ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ اسی مدت میں درآمدات میں۲۴ء۱۱؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ بڑھ کر ۶۳ء۷۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو ایک سال پہلے اسی مہینے میں ۵۱ء۳۳؍ ارب ڈالر تھیں۔جائزہ کے تحت مہینے میں تجارتی خسارہ۲۷ء۱؍ ارب ڈالر رہا۔
مارچ میں بھی برآمدات میں کمی کا رجحان
اگروال نے کہا کہ مغربی ایشیاء کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی لاجسٹک مشکلات کے سبب مارچ میں بھی برآمدات میں کمی کا رجحان دیکھنے کو مل سکتا ہے۔یہ بحران۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں تجارتی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں، وسیع پیمانے پر خلل پیدا ہوا ہے۔
وزارتِ تجارت نے کہا ہے کہ ہندوستان اس وقت آسٹریلیا، سری لنکا، پیرو، چلی، اسرائیل اور یوریشین اکنامک یونین (ای اے ای یو) کے ساتھ چھ آزاد تجارتی معاہدوں پر مذاکرات کر رہا ہے۔ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (سی ای سی اے) کیلئے گفتگو فروری۲۰۲۳ء میں شروع ہوئی تھی اور اب تک اس کے۱۱؍دور ہو چکے ہیں۔ سری لنکا کے ساتھ مذاکرات۲۰۱۵ء میں شروع ہوئے تھے اور اب تک۱۴؍ دور کی بات چیت ہوچکی ہے۔