ہندوستانی فوج کادوستانہ مشق کیلئے پاکستان جانےکا امکان

Updated: March 26, 2021, 11:41 AM IST | Agency | New Delhi

دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کیلئے کئی سطح پر مثبت کوششیں ، اگر ایسا ہوا تو یہ دونوں ممالک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو گا

Modi and Imran - Pic : INN
مودی اور عمران خان ۔ تصویر : آئی این این

ہندوستان اور پاکستان کے مابین تعلقات میں بہتری لانے کے لئے بیک وقت کئی سطح پر مثبت کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ ڈھائی برسوں میں پہلی بار ، پاکستانی افسران کی ایک ٹیم دہلی پہنچی اور  دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم پرمستقل کمیشن کا دو روزہ اجلاس شروع ہوا۔ ہندوستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے تعلقات کو پٹری پر لانےکا درکھلا ہے۔پلوامہ حملہ کے جواب میں بالاکوٹ کے سرجیکل اسٹرائیک کے بعد یہ پہلا موقع ہے ، جب پاکستان اور ہندوستان کے حکام آمنے سامنے آئے  ہیں۔ ایک سینئر افسر نےایک ہندی روزنامہ کوبتایا کہ ابھی بھی بہت کچھ پائپ لائن میں ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے بینر تلے پاکستان کے پبی علاقے میں انسداد دہشت گردی کی مشق ہوگی اور ہندوستانی فوج بھی اس میں شامل ہوگی۔ابھی اس کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن ہندوستان اس پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے گا ، کیوں کہ شنگھائی تعاون تنظیم روس کے لئے وقار کا سوال ہے اور ہندوستان ماسکو کو ناراض ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا ہے۔اس لئے تقسیم ہند کے بعد تاریخ میں پہلی بار ، ہندوستانی فوج پاکستان میں دوستانہ مشق میں شامل ہوگی۔
  متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے بھی ہندوستان اور پاکستان کے مابین بات چیت کو پٹری پر لانے میں کردار ادا کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے عہدیدار اس بارے میں زیادہ کچھ کہنے کو  تیار نہیں ہیں لیکن اس کا اعتراف کررہے ہیں آگ کے بغیر دھواں کے نہیں اٹھتا۔ تعلقات میں یہ پیش ر فت اچانک نہیں ہوئی بلکہ ایک طویل عمل کے تحت ہوئی۔ ۳۰؍مارچ کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ہارٹ ایشیاء کانفرنس ہوگی۔ اس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شامل ہوں گے۔ دونوں  لیڈروں کے مابین ایک ملاقات وہاں ممکن ہے۔
 یاد رہے کہ ۲۵؍ فروری کو ، ہاٹ لائن پر دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے ذریعے بات چیت کی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ ہواس کو یقینی بنایا جائے گا۔ تب سے دونوں اطراف کی توپیں خاموش ہیں۔ یکم فروری  سے ۲۵؍ فروری تک سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے ۲۲۵؍واقعات پیش آئے۔ اس سے قبل جنوری میں پاکستان نے ۳۳۶؍ بار سیز فائرکی خلاف ورزی کی تھی۔دونوں ممالک کے لیڈران بھی سخت بیانات نہیں دے رہے ہیں جبکہ پاکستان کا نام انتخابی جلسوں  سے غائب ہوگیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ مستقل طور پر دوستی کو فروغ دینے والے بیانات دے رہے ہیں۔ جب عمران خان کو کورونا ہوگیا تو مودی نے ان کی جلد صحتیابی ہونے کی خواہش کی۔ملک کی پانچ ریاستوں کی انتخابی فضا میں بی جے پی لیڈران پاکستان کے بارے میں کوئی بیان نہیں دے رہے ہیں۔ منگل کو دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں یوم پاکستان منایا گیا تھا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK