Inquilab Logo Happiest Places to Work

دبئی ، امارات اور کویت میں مقیم ہندوستانی شہریوں کاکہنا ہے’’ہم یہاں محفوظ ہیں‘‘

Updated: March 04, 2026, 10:24 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ان کے مطابق جس طرح ہندوستان میں اہل خانہ ہمارے لئے فکر مندہیں،اسی طرح یہاں کی حکومتیںبھی ہمارا خیال رکھ رہی ہیں۔

The UAE City Of Ajman Has Lost Its Ramadan Splendor And The Streets Are Deserted Due To War.Photo:INN
جنگ کے سبب یواے ای کے شہر عجمان میں رمضان کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور سڑکیں سنسان ہیں۔ تصویر:آئی این این
ایران ، امریکہ اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ کے سبب خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانی بالخصوص ممبئی اور اطراف کے شہریوںکا کہنا ہےکہ وہ  وہاں محفوظ ہیںاوران کی حکومتیں بھی ان کے تحفظ کیلئے فکر مند ہیں ۔ ان ممالک میں آباد ہندوستانی شہریوں کے بقول ’’امریکہ و اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ اور حملوں کے باوجود ہم یہاں محفوظ ہیں اور حکومتیں ہماری حفاظت کے لئے بذات خود بہت فکر مند ہیں ۔اس کےساتھ ہی تمام احتیاط تدابیر کو بھی بروئے کار لایا جارہا ہے ۔‘‘ 
دبئی میں ایران کے ذریعے کئے گئے حملہ اور اس ضمن میں حکومت متحدہ عرب امارات کے ذریعے کئے گئے احتیاطی  اقدامات سے متعلق ممبرا کے رہنے والے نادر خان نے جو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ یو اے ای کی ریاست عجمان میں مقیم ہیں اور ایک پرائیویٹ پرفیوم فرم میں سینئر ایگزیکٹیو منیجر کے عہدے پر فائز ہیں، بتایا کہ ’’ جیسے ہی ایران نے حملہ کیا ، فوری طور پر حکومت نےدیر رات تک چلنے والے ہوٹل، مال اور دیگر تجارتی مقامات کو افطار کے بعد مکمل طو رپر بند کرنے کا فرمان جاری کر دیا ۔یہی نہیں حملہ کے سبب تمام فلائٹس کوروزانہ منسوخ کیا جارہا ہے اورہوائی اڈوں سے پروازوں کو تقریباً بند کر دیا گیا ہے ۔‘‘ نادر نے مزید کہا کہ ’’ حملے کے فوراً بعد جب فلائٹس بند کرنے کی خبر عام ہونے لگی تو اہل خانہ بھی فکر مند ہو کر ہمیں فون کرنے لگے لیکن ہمارے اہل خانہ کی طرح یہاں کی حکومت  بھی ہماری حفاظت کے لئے فکر مند ہے اس لئے احتیاطی تدابیر کے طور پر بہت ہی ضروری کام کے علاوہ گھر سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ان تمام باتوں کے باوجود اگر میں یہ کہوں کہ ہم یہاں محفوظ ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ‘‘ 
 
 
ایران جنگ کی بابت مدنپورہ سے تعلق رکھنے والے نظام الدین انصاری جو سعودی عرب میں ۳؍ دہائی سے زائد عرصہ سے مقیم ہیں اوربطور ٹورسٹ ڈرائیور کام کرتے ہیں ،بتاتے ہیں کہ’’ ایران کے حملوں کے سبب یقینی طور پر اہل خانہ فکر مند ہوئے ہیں لیکن روزگار کے مقصد سے ہندوستان کے مختلف شہروں سے آنے والے لوگوں میں نہ تو اس حملہ کے سبب کوئی خوف ہے اور نہ ہی کوئی بے چینی ۔ ٹورسٹ بھی تفریح مقام پر گھوم رہے ہیں لیکن حکومت نے  سخت ہدایات کے ساتھ باہر نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ ‘‘
 
 
نظام الدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ جن سڑکوںپر رمضان میں پوری رات گاڑیوں کی آمد و رفت اور لوگوں کا تانتا لگا رہتا تھا وہ سنسان پڑی ہوئی ہیں۔ ‘‘ وہیںکویت میں ایران کے ذریعہ کئے گئے حملوں اوریہاں مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں پائی جانے والی بے چینی کی ضمن میں کویت کی فیضان بٹ کوئن نامی کمپنی میں بطور مزدور کام کرنے والے عظیم شیخ جن کا تعلق مالیگاؤں سے ہے ،کا کہنا تھا کہ کئی لوگ حملہ کے بعد گھر سے آنے والے فون سے نہ صرف پریشان ہوگئے ہیں بلکہ جانا بھی چاہتے ہیں لیکن باقاعدہ فلائٹ سروس نہ ہونے اور پروازوں کاسلسلہ بند کرنے سے وہ چاہ کر بھی نہیں جاسکتے ۔ کئی لوگوں نے کوشش بھی کی لیکن ایئر پورٹ جاکر کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد انہیں واپس آنا پڑا ہے ۔ ہر چند کہ چند خصوصی فلائٹس کے ذریعے لوگوں کو روانہ بھی کیا جارہا ہے ۔کویت میں حفاظتی نقطہ نظر سے حکومت ہر ممکن اقدامات کررہی ہے اور بظاہر ایسا کوئی خطرہ بھی نہیں ہے لیکن ایران ، امریکہ اوراسرائیل کے مابین ہونے والی جنگ کے سبب لوگوں میں ایک  انجان سا خوف ضرور ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK