Updated: March 04, 2026, 11:05 AM IST
| Tehran
امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعروں کے ساتھ ہزاروں افراد میناب میں اجتماعی جنازے میں شریک ہوئے۔ایران نے ہفتے کے روز جنوبی شہرمیناب ( Minab )میں واقع ایک طالبات کے اسکول پر امریکی-اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والی ۱۶۵؍ طالبات اور عملے کے افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی۔
ایران جنگ۔ تصویر:پی ٹی آئی
امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعروں کے ساتھ ہزاروں افراد میناب میں اجتماعی جنازے میں شریک ہوئے۔ایران نے ہفتے کے روز جنوبی شہرمیناب ( Minab )میں واقع ایک طالبات کے اسکول پر امریکی-اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والی ۱۶۵؍ طالبات اور عملے کے افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اس علاقے میں کسی اسرائیلی یا امریکی حملے کی اطلاع نہیں۔ غزہ میں اپنی جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران، اسرائیل متعدد مہلک حملوں کی تردید کرتا رہا ہے، بعد ازاں ناقابلِ تردید شواہد سامنے آنے پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے انہیں ’’غلطی‘‘ قرار دیتا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے منگل کو دکھایا کہ ہزاروں افراد میناب کے ایک عوامی چوک میں جمع ہیں۔ مرد اسلامی جمہوریہ کا پرچم لہرا رہے تھے جبکہ سیاہ چادروں میں ملبوس خواتین الگ کھڑی تھیں۔اسٹیج سے ایک خاتون، جنہوں نے خود کو ’’آتینا‘‘ کی والدہ بتایا، تصاویر پر مشتمل ایک پرنٹ شدہ شیٹ اٹھائے ہوئے تھیں جسے انہوں نے ’’امریکی جرائم کی دستاویز‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’وہ خدا کی راہ میں شہید ہوئیں۔‘‘ہجوم نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے اور ’’کوئی ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘‘ کے نعرے بلند کیے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ جوابی حملوں پر حیران، جھلاہٹ کا شکار
یہ حملہ ہفتے کے روز اس وقت ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملوں کا اعلان کیا، جو تہران کے خلاف جاری جنگ کا اب تک کا سب سے مہلک واقعہ قرار دیا جا رہا ہے اور جس میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو امریکہ اور اسرائیل پر طالبات کے قتل کا الزام عائد کیا۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر نئی کھودی گئی قبروں کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’’یہ ۱۶۰؍ سے زائد کمسن بچیوں کی قبریں ہیں جو امریکی- اسرائیلی بمباری میں ایک پرائمری اسکول پر حملے کے دوران ہلاک ہوئیں۔ ان کے جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے۔‘‘انہوں نے مزید کہاکہ ’’ ٹرمپ کی وعدہ کردہ نجات حقیقت میں کچھ یوں نظر آتی ہے۔ غزہ سے میناب تک، بے گناہ افراد کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ریاست کے مختلف اضلاع میں احتجاج
تہران کے حکام نے متعدد اسپتالوں اور اسکولوں پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد بین الاقوامی کارروائی اور یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایران خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغئی نے پیر کو کہا کہ دونوں ممالک بلاامتیاز رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، نہ اسپتالوں، نہ اسکولوں، نہ ہلالِ احمر کی تنصیبات اور نہ ہی ثقافتی یادگاروں کو بخشا جا رہا ہے۔