پیشے سے تاجر ہیں ،اس کے باوجود ۱۹۸۳ء سے اب تک بلاناغہ تراویح پڑھانے کا سلسلہ جاری ہے ،مولانا کا آبائی وطن بیلا نانپور، سیتا مڑھی (بہار) ہے مگرمعاش کی غرض سے گوا میںمع اہل وعیال کئی برس سے مقیم ہیں، اس سے قبل بہار کے دیگر حصوں ، اترپردیش، مہاراشٹر اورگوا میں الگ الگ مقامات پر تراویح پڑھا چکے ہیں۔
کاروبارکی مشغولیت کے باوجود حافظ محمد انصارالحق روزانہ کم ازکم ۵؍پاروں کی تلاوت کرتے ہی ہیں۔ تصویر:آئی این این
حافظ مولانامحمد انصارالحق ۴۳؍ برس سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ پیشے سے فرنیچر کے تاجر ہیں۔ اس کے باوجود حفظ مکمل کرنےکے بعد ۱۹۸۳ء سے اب تک ہرسال تراویح پڑھاتے ہیں ،کسی سال ناغہ نہیں ہوا۔ امسال گوا میں پڑھائی۔ مولانا کا آبائی وطن بیلا نانپور، سیتا مڑھی (بہار) ہے مگرمعاش کی غرض سے گوا میںمع اہل وعیال کئی برس سے مقیم ہیں۔ اس سے قبل بہار کے دیگر حصوں ، اترپردیش، مہاراشٹر اورگوا میں الگ الگ مقامات پر تراویح پڑھا چکے ہیں۔حافظ محمد انصار الحق کے حفظ کے پہلے استادقاری عین الحق ،(مدرسہ حسینیہ رانچی) تھے ، اس کے بعد جامع العلوم مظفرپور میں ۱۹۸۳ءمیں حافظ عبد الجبار دھرم پوری کے پاس حفظ کیا اوراسی سال سے تراویح پڑھانا شروع کیا ۔ پہلی تراویح اپنے گاؤں پھلوریا میں پڑھائی ۔ صدر القراء قاری محمد اسماعیل صاحب (ریاض العلوم گورینی) یوپی کے پاس دَور اورحَدر(تجوید کے لحاظ سے قواعد ومخارج )مکمل کیا۔ ان کے نانا حافظ عبدالرحیم بھی جید حافظ تھے جبکہ صاحبزادے بھی حافظ ہیں اور تراویح پڑھا رہے ہیں۔
حافظ انصارالحق قاسمی کا کہنا ہے کہ حفظ یاد رکھنے کےلئے درس وتدریس نہیںبلکہ تعلق بالقرآن شرط ہے، اگرقرآن کریم سے تعلق ہے، خواہ ذریعہ معاش کچھ بھی ہو،اگر تلاوت روزانہ کا معمول ہےتویہ اس بات کی ضمانت ہے کہ قرآن کریم تاحیات یادرہے گا لیکن اگر یہ کیفیت نہیںہے تو اس کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ قرآن باقی رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ایسے ساتھیو ں کے تعلق سے معلوم ہوا جنہیں طالب علمی کے دور میں بہت اچھا یاد تھا بعد میںانہوں نےبے اعتنائی برتی ، تلاوت کا معمول ترک کردیا،نتیجہ یہ ہواکہ قرآ ن کریم یاد نہیںرہ گیا اورتراویح پڑھانے کےلئے ان کا مصلے پر کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔
بقول حافظ مولانا انصارالحق :’’میرا طالب علمی کے دور سے ہی تجارت کا ذہن تھالیکن اپنے اوپریہ لازم کرلیا تھا کہ قرآن کریم تراویح میں ضرور سنانا ہے، چنانچہ ۴۳؍سال سے پابندی کےساتھ یہ سلسلہ جاری ہے ۔ کاروبار کی وجہ سے نہ توتراویح کے معمول میںفرق آیا اور نہ ہی یومیہ تلاوت کا سلسلہ بند ہوا ۔‘‘ کاروبارکی مشغولیت کے باوجود حافظ انصارالحق روزانہ کبھی ۲؍ کبھی تین اورکبھی ۵؍یا اس سے زائدپاروں کی تلاوت کرتے ہیں۔ اسی لحاظ سے وہ نئے حفاظ کویہ مشورہ دیتے ہیں کہ حفظ کرنےکےبعد قرآن سے جڑے رہیںاورتلاوت کرنے کے ساتھ تراویح پڑھانے کا بھی اہتمام رکھیں۔ خاص طور پرتمام حفاظ کوچلتے پھرتے قرآن کریم کی تلاوت کا معمول بنانا چاہئے، اس طرح تلاوت کی عادت ڈالنےسے قرآن کریم کی یادداشت پختہ ہوتی جائے گی ،پھررمضان ہویا کوئی اورموقع چند پارے بغیرکسی دشواری یا گھبراہٹ کے ،پڑھانا آسان ہوگا۔
اپنے اساتذہ کے تعلق سےحافظ انصارالحق کا کہنا تھا کہ سبق ،سبق پارہ (جس پارے میںسبق ہو) اور آموختہ پابندی سے سننے کےساتھ موقع بہ موقع یہ ہدایت بھی دیتے رہتے تھے کہ اسی طرح بعد میں بھی قرآن کریم پڑھنے کا سلسلہ عملی زندگی میںبھی جاری رہے ، قرآن کریم سے کسی بھی حال میںغفلت نہ ہو۔وہ بتاتے ہیںکہ اساتذہ کی ان ہدایات اورقرآن وحدیث کی روشنی میں اللہ کےمقدس کلام کے تعلق سے جواحکامات نازل کئے گئے ہیں، اسے پیش نظررکھتے ہوئے کوشش کرتا ہوں کہ باری تعالیٰ کی جانب سے عطاکردہ اس عظیم نعمت کی قدر ہوجائے اور کوئی کوتاہی نہ ہو۔