Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز سے ہندوستان کا ٹینکرگزرے گا، جے شنکر اور عراقچی کی گفتگو کے بعد فیصلہ

Updated: March 12, 2026, 2:05 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان بات چیت کے بعد ایران نے ہندوستان پرچم والے ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔

The Strait Of Hormuz. Photo:INN
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان  کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس  جے شنکر اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان بات چیت کے بعد ایران نے ہندوستان پرچم والے ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کا مقصد خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنا ہے۔
اس معاملے سے وابستہ ذرائع کے مطابق ہندوستانی ٹینکر ’’پشپک‘‘ اور’’پریمل‘‘ آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزر رہے ہیں  تاہم امریکہ، یورپ اور اسرائیل کے جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دونوں لیڈروں نے مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو میں آبنائے ہرمز سے سمندری آمد و رفت ایک اہم موضوع تھا۔ ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تیسری بات چیت تھی۔ اسی طرح کے ایک اور معاملے میں سعودی عرب کا خام تیل لے کر جانے والا  لائبیریا کے پرچم والا ایک ٹینکربھی کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر کےممبئی پورٹ پر پہنچ گیا ہے۔ اس جہاز کا کپتان ایک ہندوستانی ہیں۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد اس علاقے میں سمندری ٹریفک بہت سست ہو گئی ہے۔ ایسے میں یہ جہاز ہندوستان پہنچنے والا پہلا ٹینکر بن گیا۔ ٹینکر شین لونگ سویز میکس نے یکم مارچ کو سعودی بندرگاہ راس تنورا سے خام تیل لوڈ کیا تھا اور دو دن بعد روانہ ہوا تھا۔
لائڈز لسٹ انٹیلی جنس  اور ٹینکر ٹریکرز کے سمندری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ہندوستانی پانی میں داخل ہونے سے پہلے جہاز کی آخری ریکارڈ شدہ لوکیشن ۸؍ مارچ کو آبنائے ہرمز کے اندر تھی۔ٹینکر کے کامیابی سے گزرنے سے ہندوستان میں توانائی کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش میں کچھ کمی آنے کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھئے:غزہ میں ایندھن کی قلت کی وجہ سے امدادی کارروائیاں معطل ہوسکتی ہے: اقوامِ متحدہ کا انتباہ

ہندوستان  ایشیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ ہندوستان  آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اس کے نصف سے زیادہ خام تیل اور قدرتی گیس کی درآمد اسی تنگ سمندری راستے سے ہوتی ہے۔کچھ جہازوں کے محفوظ گزرنے کے باوجود کئی ہندوستانی جہاز اس حساس راستے میں یا اس کے آس پاس موجود ہیں۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کے مطابق اس علاقے میں لڑائی شروع ہونے کے بعد کم از کم ۲۸؍ ہندوستانی پرچم والے جہاز آبنائے ہرمز میں یا اس کے قریب کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:انسٹاگرام پر وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا مندانا کی شادی کا ویڈیو ریکارڈ بنانے میں کامیاب

حکام نے بتایا کہ آٹھ ہندوستانی پرچم والے جہاز، جو لڑائی شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کے مشرق میں تھے، اب محفوظ پانیوں میں پہنچ چکے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں ان میں سے سات جہاز  دیش مہیمہ، دیش ابھیمان، سورن کمل، وشو پریرنا، جگ ویراٹ، جگ لوکیش اور ایل این جی سی اسیم  آبنائے ہرمز سے نکل کر بحیرۂ عرب میں پہنچ گئے ہیں۔ ایک اور جہاز  جگ لوکیش انگولا کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ اس دوران علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK