Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں ایندھن کی قلت کی وجہ سے امدادی کارروائیاں معطل ہوسکتی ہے: اقوامِ متحدہ کا انتباہ

Updated: March 12, 2026, 12:02 PM IST | Gaza

اقوامِ متحدہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ جب تک اضافی گزرگاہیں نہیں کھولی جاتیں اور غزہ میں وافر مقدار میں سامان کے داخلے کو یقینی نہیں بنایا جاتا، انسانی امدادی کارروائیوں کو مزید تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی گزرگاہوں پر اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے پوری غزہ پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری کارروائیوں کے لئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ منگل کو پریس بریفنگ کے دوران اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کے داخلے کے زیادہ تر مقامات ہنوز بند ہیں، جس کے باعث امداد کی ترسیل شدید طور پر محدود ہوگئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (اوچا) کے مطابق، اس وقت انسانی ہمدردی کے سامان کی آمد کے لئے صرف ’کریم ابو سالم‘ گزرگاہ کھلی ہے۔

دوجارک نے بتایا کہ منگل سے اب تک صرف ۱۴ لاکھ لیٹر ایندھن غزہ میں داخل ہوا ہے، جو ضروری خدمات کو برقرار رکھنے کے لئے درکار سطح سے نہایت کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں اپنی خدمات میں خلل یا کمی سے بچنے کے لئے ہر ہفتے ۲۰ لاکھ لیٹر سے زیادہ ایندھن کی ضرورت ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۰؍ سے زائد ثقافتی شخصیات کا برٹش میوزیم کوخط، فلسطینی تاریخ نہ مٹانے کا مطالبہ

ایندھن کی قلت کی وجہ سے کچرے کے انتظام سمیت متعدد ضروری امور اور انسانی امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں ۱۰ فروری سے اب تک غزہ بھر میں جمع ہونے والے ۳ لاکھ ۵۰ ہزار مکعب میٹر کچرے میں سے صرف ۳ ہزار مکعب میٹر کوڑے کو ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہوسکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت اور حفاظتی خدشات کی وجہ سے صفائی کی رفتار توقع سے کہیں زیادہ سست ہے۔

انسانی حقوق کی ایجنسیوں کو پناہ گاہوں کی فراہمی میں بھی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، اسرائیلی حکام کی جانب سے نام نہاد ’دوہرے استعمال‘ والا مواد پر عائد پابندیوں کی وجہ سے بھاری مشینری، ٹول کٹس، لکڑی اور سیمنٹ جیسے ضروری سامان کو غزہ میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لئے پناہ گاہوں کی مرمت یا تعمیر کی کوششیں محدود ہوگئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان: مسجد اقصیٰ مسلسل ۱۱؍ ویں دن بند، اعتکاف پر پابندی تشویش کا باعث

اقوامِ متحدہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ جب تک اضافی گزرگاہیں نہیں کھولی جاتیں اور غزہ میں وافر مقدار میں سامان کے داخلے کو یقینی نہیں بنایا جاتا، انسانی امدادی کارروائیوں کو مزید تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوجارک نے امدادی رسائی کو فوری طور پر وسیع کرنے اور غزہ میں ضروری سامان کے ”مستقل اور قابلِ پیش گوئی بہاؤ“ کا مطالبہ کیا تاکہ علاقے میں شہریوں کے حالاتِ زندگی کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK