انڈونیشیا نے اناک کراکاٹوا آتش فشاں سے اٹھنے والے راکھ کے بادل کے باعث اتوار کو ۵؍ ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کردیا، جن میں جکارتہ کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 12:42 PM IST | Agency | Jakarta
انڈونیشیا نے اناک کراکاٹوا آتش فشاں سے اٹھنے والے راکھ کے بادل کے باعث اتوار کو ۵؍ ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کردیا، جن میں جکارتہ کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔
انڈونیشیا نے اناک کراکاٹوا آتش فشاں سے اٹھنے والے راکھ کے بادل کے باعث اتوار کو ۵؍ ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کردیا، جن میں جکارتہ کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔ اسکے نتیجے میں سیکڑوں پروازیں متاثر ہوئیں۔ سنیچر کو آتش فشاں میں ہونے والے زوردار دھماکے کے دوران لاوا بھی نکلا اور اسکی آواز تقریباً۷۰۰؍کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ اتوار کو مزید دو بار آتش فشاں پھٹنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ آتش فشاں کی راکھ کے باعث بعض اسکولوں کی سرگرمیاں اور ماہی گیری بھی متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: کنالی: اطالوی نفاست اور مردانہ ملبوسات کی نوے سالہ داستان
جکارتہ کے قریب سوئیکارنو-ہٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اطراف فضائی حدود میں راکھ کی موجودگی کا پتہ چلنے کے بعد حکام نے پروازوں کا آپریشن معطل کردیا۔ ہوائی اڈہ کے آپریٹر انگکاسا پورا کے مطابق اس فیصلے سے۳۰۱؍ پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں۵۸؍ بین الاقوامی پروازیں شامل ہیں۔ سنگاپور ایئرلائنز نے اتوار کو جکارتہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ آسٹریلوی ایئرلائن قنطاس نے بھی متعدد پروازوں میں خلل اور منسوخی کی اطلاع دی۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق تازہ ترین جانچ میں سوئیکارنو-ہٹا ہوائی اڈے کے علاقے میں آتش فشانی راکھ کے پھیلاؤ کی تصدیق ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق راکھ آتش فشاں کے جاوا کی جانب۶؍ ہزار میٹر اور سماترا کی جانب ۱۵؍ ہزار میٹر کی بلندی تک پہنچی، جبکہ جاوا کے صوبے بنتن کے بعض علاقوں میں بھی اس کا اثر دیکھا گیا۔ راکھ کے باعث سنیچر کو کئی اسکولوں نے سرگرمیاں منسوخ کردیں، کیونکہ طلبہ اور مقامی باشندوں کو آنکھوں میں جلن کی شکایت ہوئی۔ ماہی گیروں نے بھی سمندر میں جانے کے پروگرام منسوخ کردیے۔ قومی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی بی این پی بی نے بارش کرانے کے لیے اتوار کو موسم میں تبدیلی کی کارروائی، جس میں بادلوں پر مصنوعی بارش بھی شامل ہوسکتی ہے، شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ماہرین کے مطابق آتش فشانی راکھ طیاروں کیلئے خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ یہ جیٹ انجن کے گرم اندرونی حصوں پر جم کر ٹربائن بلیڈ کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور ایندھن و ہوا کے نظام کو متاثر کرنے کے علاوہ پائلٹوں کی ونڈ اسکرین کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔