ممبئی کی سابق میئر اس عرصہ میں نہ تو الیکشن لڑ سکیں گی اور نہ ہی بحیثیت کارپوریٹر کام کرسکیں گی۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 1:43 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
ممبئی کی سابق میئر اس عرصہ میں نہ تو الیکشن لڑ سکیں گی اور نہ ہی بحیثیت کارپوریٹر کام کرسکیں گی۔
ذات سرٹیفکیٹ ناقابل قبول قرار دیئے جانے کی وجہ سے شیوسینا ادھو کی کارپوریٹر اور سابق میئر وشاکھا راؤت کو نہ صرف کارپوریٹر کے عہدہ سے ہٹادیا گیا بلکہ اب انہیں آئندہ ۶؍ برس کیلئے انہیں نااہل قرار دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس عرصہ میں نہ تو الیکشن لڑ سکیں گی اور نہ ہی بحیثیت کارپوریٹر کام کرسکیں گی۔
واضح رہے کہ ایم ایل اے سدا سرونکر کی بیٹی پریا نے وشاکھا رائوت کے خلاف شکایت کی تھی کہ ان کا او بی سی سرٹیفکیٹ پالگھر کا ہے جبکہ وہ خود ممبئی کی ہیں اس لئے اس کی جانچ ہونی چاہئے۔ اس پر پالگھر کی اسکروٹنی کمیٹی نے جانچ کے بعد ان کا سرٹیفکیٹ ناقابل قبول قرار دے دیا تھا۔ اس تعلق سے ان کا کہنا ہے کہ ان کے دادا پالگھر سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کا او بی سی سرٹیفکیٹ وہاں سے بنا ہے۔ ان کے مطابق خود پریا سرونکر بھی ممبئی سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کا او بی سی سرٹیفکیٹ ویبھو واڑی کا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آج سےمختلف مراکز پر الیکٹرانک میٹر اپ ڈیٹ کرانے کی سہولت
وشاکھا نے اس فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا تھا لیکن انہیں وہاں سے بھی کوئی راحت نہیں ملی تھی۔ اس بنیاد پر بی ایم سی نے ’اَربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ‘ (یو ڈی ڈی) کو ہدایت دی تھی کہ انہیں ۶؍ برس کیلئے کارپوریٹر کا الیکشن لڑنے اور اس عہدے پر کام کرنے کیلئے نااہل قرار دے دیا جائے۔ اس ہدایت کی بنیاد پر یو ڈی ڈی نے یکم ستمبر کو گیزیٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعہ وشاکھا رائوت کو نااہل قرار دے دیا ہے۔
اب تک ۵؍ کارپوریٹر نااہل ہوچکے ہیں
ذات سے متعلق سرٹیفکیٹ ناقابل قبول ہونے کی وجہ سے پہلے ہی ۴؍ میونسپل کارپوریٹروں کی رکنیت کالعدم قرار دی جاچکی ہے جن میں بھانڈوپ کے وارڈ نمبر ۱۱۱؍ کے شیوسینا (ادھو) کے دیپک ساونت، گوونڈی میں وارڈ نمبر ۱۳۷؍ کے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سمیر رمضان پٹیل، وارڈ نمبر ۱۳۸؍ سے اے آئی ایم آئی ایم کی روشن شیخ اور وارڈ نمبر ۱۷۰؍ سے این سی پی (اجیت) کی بشریٰ ندیم ملک شامل ہیں۔ اب وشاکھا رائوت کے ہٹائے جانے سے بی ایم سی میں اپوزیشن مزید کمزور ہوگئی ہے۔