کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ملک میں بڑھتی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر مرکز کی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا اثر محض بازار کے اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 6:04 PM IST | New Delhi
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ملک میں بڑھتی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر مرکز کی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا اثر محض بازار کے اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ملک میں بڑھتی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر مرکز کی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا اثر محض بازار کے اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی براہِ راست مار متوسط طبقے اور غریب خاندانوں کے گھریلو بجٹ اور باورچی خانوں پر پڑ رہی ہے۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مہنگائی سے متعلق ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہواروں کے موسم میں گزشتہ تین ماہ کے دوران کئی خاندانوں کے باورچی خانے کا بجٹ تقریباً ۲۵ ؍فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق محدود آمدنی میں گھر چلانے والے خاندانوں کے لیے روزمرہ استعمال کی اشیا کی بڑھتی قیمتیں ایک بڑا مالی دباؤ بن رہی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں عام خاندان اپنے گھریلو اخراجات کو کس طرح متوازن رکھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دال، چاول، خوردنی تیل اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق ارہر دال کی قیمت ۱۰۵؍ روپے سے بڑھ کر ۱۴۰ ؍سے ۱۵۰؍ روپے فی کلو، مونگ دال ۹۵ ؍روپے سے بڑھ کر ۱۲۰؍ روپے، چاول ۴۲؍ سے ۴۵ ؍روپے سے بڑھ کر ۵۳؍ سے ۵۵ ؍روپے اور سرسوں کا تیل ۱۶۵ ؍روپے سے بڑھ کر تقریباً ۱۹۰؍ روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار انہوں نے مہنگائی کے اثرات کی وضاحت کے لیے پیش کیے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی نظر برازیل کے خلاف توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھانے پرمرکوز
جے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ مسالوں، سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے اعداد و شمار میں بھی اگست کے دوران غذائی مہنگائی ۵ء۹۵ فیصد درج کی گئی، جبکہ پیاز، ادرک اور لہسن کی قیمتوں میں بالترتیب۴۸ء۲۷ فیصد، ۷۳ء۸۲ فیصد اور ۴۳ء۶۰ فیصد اضافے کا حوالہ دیا گیا۔ اس سے قبل بھی جے رام رمیش نے کہا تھا کہ آٹا، دال اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ عام خاندانوں کے باورچی خانے کے بجٹ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت مہنگائی کی حقیقی صورتحال پر قابو پانے کے بجائے اعداد و شمار کے ذریعے صورتحال کو مختلف انداز میں پیش کر رہی ہے۔ یہ الزامات کانگریس کی جانب سے حکومت پر کیے گئے سیاسی حملوں کا حصہ ہیں۔
جے رام رمیش نے گھریلو بچت میں کمی اور خاندانوں پر بڑھتے قرض کے دباؤ کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عام خاندانوں کے لیے مسئلہ صرف روزمرہ اخراجات میں اضافہ نہیں بلکہ محدود آمدنی کے ساتھ بچت برقرار رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مہنگائی پر قابو پانے اور عام لوگوں کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں راحت فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مادھوری دکشت نے ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کی شوٹنگ شروع کردی
واضح رہے کہ مہنگائی کے معاملے پر کانگریس مسلسل مرکز کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے معیشت کی مجموعی رفتار اور دیگر اقتصادی اعداد و شمار کو اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔ اس طرح بڑھتی قیمتیں اور عام گھرانوں کے بجٹ پر ان کا اثر سیاسی بحث کا ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔