عوام کو بیدار کرنے کی غرض سے ’جن ادھیکار یاترا‘ کا آغاز

Updated: March 16, 2023, 10:50 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

مختلف تنظیموں کے اشتراک سے شروع کی گئی یہ یاترا ۲۶؍ دنوں تک شہر کے مختلف علاقوں سے گزرے گی اور عوام کو اصل مسائل نیز ان کے آئینی حقوق سے آگاہ کرے گی

A woman activist addressing the public
ایک خاتون کارکن عوام سے خطاب کرتے ہوئے

ملک کے موجودہ نفرت انگیز اورفرقہ وارانہ ماحول میںامن اوربھائی چارے کا پیغام دینے کیلئے مختلف سماجی تنظیموں کےاشتراک سے۱۵؍مارچ کو کرلا اسٹیشن سے بھگت سنگھ جن ادھیکار یاترا کا آغاز عمل میں آیا۔ ۱۱؍اپریل تک یعنی ۲۶؍ دن تک یہ یاتراممبئی کے الگ الگ حصوںمیںنکالی جائے گی۔ کرلا میں نکالی گئی ریلی میں شرکاء نے ’’بے روزگاری ، مہنگائی ، بدعنوانی ، فرقہ پرستی اورمحنت کش عوام کی لوٹ کے خلاف ایک ہوں گےطلبہ ، ملازمین ،نوجوان اورمزدور‘‘ کا نعرہ بلند کیا ۔یہ یاترا بھارت کی کرانتی کاری مزدور پارٹی ، نوجوان بھارت سبھا، استری مکتی لیگ اوربگل مزدور جیسی تنظیموں کے اشتراک سے نکالی جا رہی ہے ۔ ریلی کے شرکاء ہاتھوں میںپلے کارڈ لئے ہوئے تھے اس پر’محنت کشوں کی یہی پکار لے کررہیں گے جن ادھیکار ، فرقہ پرستی کے خلاف بلند کریں گے اپنی آواز‘جیسے نعرے لکھے ہوئےتھے۔  ریلی میں خاص بات یہ تھی کہ اس ریلی میںفاطمہ شیخ کی تصاویر کونمایاں کیا گیا تھا ،یہ وہی فاطمہ شیخ ہیں جنہوںنے ساوتری بائی پھلے کو لڑکیوں کے اسکول کیلئے جگہ دی تھی۔
جھوٹے وعدوں اورتسلی سے پیٹ کی آگ نہیںبجھائی جاسکتی 
 بھارت کی کرانتی کاری مزدور پارٹی کی عہدیدار ڈاکٹر پوجا چنچولے نے کہاکہ ’’ حکومت نے ہر سال ۲؍کروڑروزگاردینے کا وعدہ کیا تھا ،شایدہ وہ عوام کوپھنسانے کا ایک جملہ تھا۔ آج عالم یہ ہےکہ روزگار تو نہیںملے بلکہ معاشی بدحالی کےسبب جو تھیں وہ  ملازمتیں بھی  چلی گئیں ۔مہنگائی اوربے روزگاری سے عوام کا جینا محال ہوگیا ہے۔‘‘ انہوںنے کہاکہ ’’ حکومت کو سال کے ۳۶۵؍ دن روزگار مہیا کروانا چاہئے ، اگروہ اپنے وعدے کو پورا نہیںکرتی تو اسے پورے سال تمام بےروزگاروں کوبے روزگاری بھتہ دینا چاہئے۔کیونکہ محض جھوٹے وعدوں اورتسلّی سے پیٹ کی آگ نہیںبجھائی جاسکتی بلکہ اس کے لئے روٹی چاہئے۔‘‘
 غریب مزدور کا بچہ تعلیم سے محروم رہے گا
 نوجوان بھارت سبھا کے رکن آشے کدم نے کہاکہ ’’حکومت کی غلط اور زعفرانی تعلیمی پالیسی اور نجکاری کی پالیسی فوری طور پرواپس لینی ہوگی کیونکہ ایسی تعلیمی پالیسی تھوپی گئی ہے کہ ایک محنت کش کا بچہ اعلیٰ تعلیم تو دور بنیادی تعلیم سےبھی محروم ہوجائے گا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قومی بجٹ میںتعلیم کے بجٹ میںتخفیف کردی گئی ہے۔‘‘
 راہل سنتوش جادھو نے کہاکہ ’’ یہ یاترا پہلے دن کرلا اسٹیشن (مشرق )سے وی سی بیندرے چوک تک نکالی گئی اورجمعرات  ۱۶؍ مارچ کواسی جگہ سے آگے بڑھے گی۔‘‘ انہوںنےیہ بھی کہاکہ’’ ۲۶؍دن تک ممبئی کے الگ  الگ حصوں میںجاری رہنےوالی اس ریلی کے ذریعے لوگوں کو ملک کے موجودہ نفرت بھرے ماحو ل ، آئین میںدیئے گئے حقوق کی پامالی ، بے روزگاری اوربدعنوانی ، آپس میںاختلاف پیدا کرنے کی کوشش اورآئین وجمہوریت کولاحق خطرات سے  آگاہ کروانے ،ان کوبیدار کرنے اورانہیںمتحد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس ریلی  کے شرکاء روزانہ ۳؍تا ۵؍کلومیٹرپیدل چل کریہ پیغام عام کریں گے اور دیگر لوگوں کو اس کاحصہ بنائیںگے۔‘‘ 
عوامی مسائل کا احاطہ 
 ریلی کے منتظمین میں شامل للیتا نے کہاکہ’’ امیدہے کہ لوگ بڑی تعداد میںاس کا حصہ بنیںگے ، اس کے آغازسے ہی یہ نظرآ رہا ہے کیونکہ اس میں جن مسائل کوبنیاد بنایا گیا ہے وہ تمام عوامی مسائل ہیں اور لوگ اس کے سبب بہت زیادہ پریشان ہیں۔‘‘ یہ ریلی مجموعی طور پر ۲۶؍ دنوں تک جاری رہے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس میں شامل کیا جا سکے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK