اِن دنوں بہت کچھ ہورہا ہے۔ بہت کچھ پہلے بھی ہورہا تھا مگر ماضی کے بہت کچھ اور حال کے بہت کچھ میں فرق یہ ہے کہ ماضی میں بہت کچھ ایسا ہورہا تھا جس سے ملک کی فرقہ وارانہ فضا مکدر ہورہی تھی، سیاسی اکثریت پرستی کا زور بڑھ رہا تھا، آئے دن ناخوشگوار واقعات رونما ہو رہے تھے اور عوام میں خوف سرایت کرچکا تھا۔
اِن دنوں بہت کچھ ہورہا ہے۔ بہت کچھ پہلے بھی ہورہا تھا مگر ماضی کے بہت کچھ اور حال کے بہت کچھ میں فرق یہ ہے کہ ماضی میں بہت کچھ ایسا ہورہا تھا جس سے ملک کی فرقہ وارانہ فضا مکدر ہورہی تھی، سیاسی اکثریت پرستی کا زور بڑھ رہا تھا، آئے دن ناخوشگوار واقعات رونما ہو رہے تھے اور عوام میں خوف سرایت کرچکا تھا۔ اس کے برخلاف، حال کے بہت کچھ میں جمہوریت کی بقاء کی جدوجہد سب سے زیادہ اہم ہے۔ ایک طرف کانگریس ہے جو غیر فعال بھلے ہی نہ رہی ہو مگر اس پر غیر فعال ہونے کا گمان تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ ملک کی یہ قدیم پارٹی کئی معاملات بالخصوص فرقہ وارانہ معاملات پر کھل کر بول رہی ہے۔ اس نے آئین ہاتھ میں لے کر چلنے کی روایت کے ذریعہ ہر خاص و عام کو احساس دلایا ہے کہ ملک میں آئین بالاتر ہے اس کے اوپر کوئی نہیں۔ اس کا دفاعی انداز جارحانہ تیور میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ووٹ چوری پر سب سے پہلے اسی پارٹی کے لیڈر راہل گاندھی نے ناقابل تردید انکشافات کئے تھے۔ دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی میدانِ عمل میں ہیں جن میں سماج وادی، شیو سینا (اُدھو)، این سی پی (شرد) اور بائیں محاذ کا نام خاص طور پر لیا جاسکتا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جب سے شروع ہوئی ہے، اس نے حکومت کیلئے بڑا چیلنج کھڑا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:وقت کروٹ بدل رہا ہے اور یہ خوش آئند ہے!
آن لائن تشکیل پانے والی یہ پارٹی چونکہ غیر سیاسی ہے اور اس سے نئی نسل وابستہ ہوئی ہے اس لئے حکمراں محاذ اس کے سوالات کا سیاسی جواب دے کر اس سے پنڈ نہیں چھڑا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی ناک میں دَم ہے۔ اس کے ساتھ کھڑی رہنے والی نئی نسل (جین زی) تین اہم خصوصیات کی حامل ہے۔ باخبر ہے، بے خوف ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی بات کہتی ہے۔ گزشتہ سنیچر کو جب یہ نوجوان جنتر منتر کی جانب کوچ کررہے تھے تب اُن کے جم غفیر کو روکنے کی کوشش میں پولیس کے پسینے ایسے ہی نہیں چھوٹے۔ پولیس کے ذریعہ ایک بس میں مظاہرین کے سوار کئے جانے کے بعد ایمرجنسی ایگزٹ سے اُن کے نکل نکل کر بھاگنے کے ویڈیو سوشل میڈیا پر چھائے رہے۔ ایک اور بس کو جب نوجوانوں سے بھر دیا گیا تب ایک طالبہ نے ذہانت اور ظرافت دونوں کا اس طرح مظاہرہ کیا کہ بس کی چابی لے کر سرپٹ دوڑی۔ اس کا ڈرائیور مسکرا رہا تھا۔ ان بچوں کا کمال یہ ہے کہ احتجاج کو بوجھل نہیں ہونے دیا۔ ماضی قریب کی شاید ہی کوئی نسل رہی ہو جس نے مظاہرہ کو میلہ، نعروں کو مزاحیہ اور مطالبات کو تخلیقی بنایا ہو۔ مظاہرہ پُر مشقت ہوتا تھا انہوں نے پُر لطف بنا دیا۔ ایک طرف ان کی شوخی اور جرأت ہے تو دوسری طرف نیہا بورا جیسوں کی بہادری ہے۔ نیہا تو نہایت کم وقت میں خود کو اس طرح منوا چکی ہیں کہ انہیں حالیہ مظاہروں کا سب سے نمایاں چہرا قرار دیا جارہا ہے۔ سول سوسائٹی کے لوگ (یوگندر یادو، پرشانت بھوشن، انجلی بھاردواج، کپل سبل اور دیگر) بھی حالیہ مہینوں کے ’’بہت کچھ‘‘ کا اہم حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:مصنوعی ذہانت (AI)، فلمسازوں اور فلم کمپنیوں کو نئے کاروباری امکانات فراہم کررہی ہے
پہلے جو بہت کچھ ہوا اور بارہ سال تک ہوتا رہا اس میں حکمراں اتحاد جو چاہتا وہ کر گزرتا تھا۔ نوٹ بندی کسی کو اعتماد میں لئے بغیر ہوئی، جی ایس ٹی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو رسما ً، رعایتا ًیا روایتا ًبھی نہیں سنا گیا، تین زرعی قوانین کے نفاذ کے وقت کسان تنظیموں کی اپیلوں کو مسترد کیا جارہا تھا، اگر دہلی کی سرحدوں پر کسان سر پر کفن باندھ کر نہ بیٹھتے اور یوپی کے انتخابات میں نقصان کا اندیشہ نہ ہوتا تو مذکورہ سیاہ قوانین کو نافذ کر ہی دیا جاتا۔ رافیل کے سودے اور قیمتوں پر اعتراضات کو غیر اہم سمجھا گیا، کورونا کے دور میں نہایت سخت لاک ڈاؤن لگا کر پورے ملک کو گھروں میں بٹھا دیا گیا، شہریوں میں حوصلہ پیدا کرنے کے بجائے خوف بڑھانے کے جتن کئے گئے اور عوام کے معاشی نقصان کی ذرہ برابر بھی فکر نہیں کی گئی۔ مختصر یہ کہ بہت کچھ ہوا۔ پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ کے بغیر اور اپوزیشن کو اعتماد میں لئے بغیر بل پاس ہوتے اور قانون کا درجہ حاصل کرتے رہے۔ اسی دوران قانون بنا کر چیف الیکشن کمشنر کو ’’قانون سے محفوظ‘‘ کردیا گیا۔ ان کے خلاف مقدمہ چل سکتا ہے نہ سزا ہو سکتی ہے۔ اُدھر ووٹوں کی مبینہ چوری برابر جاری رہی جس کے شواہد راہل گاندھی نے اپنی خصوصی پریس کانفرنسوں میں پیش کئے۔
یہ بھی پڑھئے:قاری نامہ: سنبھل تشدد، ملا افروز کی رہائی، عدالتی فیصلے کے دیگر مقدمات پر اثرات؟
اس پر محاسبہ کے بجائے الیکشن کمیشن نے من مانے طریقے سے ایس آئی آر شروع کردیا اور لاکھوں کی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کر دیئے۔ ماضی کے ’’بہت کچھ‘‘ میں اتنا کچھ ہے کہ کئی ضخیم کتابیں لکھی جاسکتی ہیں اور شاید لکھی بھی جائیں۔ مگرجب بہت کچھ ہورہا تھا تب اپوزیشن کی کیفیت بھیگی بلی جیسی تھی۔ اس کے پاس حکمراں اتحاد کے یکطرفہ فیصلوں، قابل اعتراض اقدامات اور سیاسی و انتخابی داؤ پیچ کا کوئی جواب یا توڑ نہیں تھا۔ بارہ سال میں دس سال تک اپوزیشن برائے خانہ پُری تھا۔ اس میں جان آئی لوک سبھا الیکشن ۲۰۲۴ء کے بعد جب ۴۰۰؍ پار کا نعرہ لگا کر بی جے پی۲۴۰؍ پر سمٹ گئی۔ اس سے اپوزیشن بالخصوص کانگریس کو حوصلہ ملا مگر مزاحمت کا وہ جذبہ اور حوصلہ اُن میں اب بھی پیدا نہیں ہوا تھا جس کے مظاہر ادھر کچھ عرصہ سے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پہلے جو ’’بہت کچھ‘‘ ہوا وہ حکمراں جماعت کے ذریعہ ہوا، اب جو ’’بہت کچھ‘‘ ہورہا ہے وہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ ہورہا ہے۔ کانگریس کا موجودہ جارحانہ رُخ بی جے پی اور این ڈی اے کی دیگر پارٹیوں کیلئے بھی باعث ِ حیرت ہوگا۔ بی جے پی کف افسوس مل رہی ہوگی کہ اس کا ارادہ تو ’’کانگریس مُکت بھارت‘‘ کا تھا مگر اب تو کانگریس میں نئی جان پڑ گئی ہے۔ دیگر پارٹیاں بھی اس کے ساتھ آرہی ہیں۔ اسے منگل، ۶؍ اکتوبر کے مارچ میں بیجو جنتا دل کی شرکت پر بھی حیرت ہوئی ہوگی۔ بدھ، ۷؍ اکتوبر کو اپوزیشن کے ۳۰۰؍ ایم پی جو ایک دن پہلے الیکشن کمیشن تک پہنچنے میں ناکام ہوئے تھے، دوبارہ یکجا ہوگئے۔ پہلے کے ’’بہت کچھ‘‘ کے بعد اب جو ’’بہت کچھ‘‘ ہورہا ہے یقیناً اُمید افزا ہے۔