کتابیں اپنے پڑھنے والوں کو کیا دیتی ہیں اس کا احساس تبھی ہوسکتا ہے جب کتابیں پڑھی جائیں، اُن پر غور کیا جائے، اُنہیں اپنی کسوٹی پر پرکھ کر قبول یا رد کیا جائے۔ ہر کتاب ذہن و دل کو آسودگی بخشتی ہے مگر لوگوں کو کتابوں سے جیسے الرجی ہوگئی ہے۔
اٹلی کی یادگار۔ تصویر:آئی این این
’’پڑھنے کی عادت بہت اچھی ہے۔ مطالعہ ایک شریفانہ فعل ہی نہیں، حکیمانہ فعل ہے مگر پڑھنے پڑھنے میں فرق ہے اور کتاب کتاب میں فرق ہے۔‘‘ یہ قول بابائے اُردو مولوی عبد الحق کا ہے جو اُن کے تحریر کردہ ایک (کتاب کے) دیباچہ سے اخذ کیا گیا ہے۔ دیباچہ کس کتاب کا ہے اس پر جلد ہی گفتگو ہوگی مگر اس سے قبل یہ جان لیجئے کہ مولوی صاحب نےمذکورہ جملہ لکھنے کے بعد اچھی کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی کہ جو ہاتھ لگ جائے اُسے پڑھ لینا اپنا وقت ضائع کرنے جیسا ہے۔ اچھی کتاب کو تلاش کرکے پڑھنا چاہئے جس سے قاری کو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے ، جس سے اُس کے خیالات کو وسعت ملے اور جذبات کی رہنمائی ہو۔ یہ دیباچہ ۱۹۱۶ء میں لکھا گیا تھا۔
۱۹۱۶ء سے اب تک، کم و بیش ایک سو نو (۱۰۹) سال پیشتر کے حالات اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک سو نو سال پہلے سائنس اور تکنالوجی کی ایجادات کا دائرہ اتنا وسیع نہیں ہوا تھا جتنا کہ اب ہوگیا ہے۔ مشاغل محدود تھے۔ لوگوں کے پاس فارغ وقت ہوتا تھا۔ عام لوگ دن بھر کے واقعات، ہنسی مذاق یا ماضی کے قصے کہانیوں میں وقت صرف کرتے اور چَین سے سو جاتے تھے مگر پڑھے لکھے لوگ (بھلے ہی وہ ادیب، شاعر یا دانشور نہ ہوں) اپنا فاضل وقت مطالعہ ٔ کتب میں اور اس کے بعد علمی و ادبی مباحث میں گزارتے تھے۔ اِدھر بیس پچیس سال میں تو قیامت ہی برپا ہوگئی۔ ہر شخص مصروف ہے۔ فارغ یا فاضل وقت کسی کے پاس نہیں ہے اور ڈھیر سارے مشاغل کا ایک مشغلہ سب کے ہاتھوں میں ہے۔ مولوی صاحب کے زمانے میں ’’اچھی اور کم اچھی‘‘ یا ’’کم اچھی اور بُری کتاب‘‘ کا مسئلہ تھا چنانچہ لوگوں کو تلقین کی جاتی تھی کہ وہ کارآمد کتابیں پڑھیں تاکہ علم میں اضافہ ہو، ایسی کتابوں سے دور رہیں جن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور جو تضیع اوقات کا سبب بنتی ہیں۔آج اچھی، کم اچھی اور بُری کتابوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ لوگ کتابوں سے بھاگنے لگے ہیں۔ شاذو نادر بھی کسی کے ہاتھ میں کتاب نظر نہیں آتی۔ گھروں میں اتنا ساز و سامان بھرا ہوتا ہے کہ کتابوں کیلئے نہ تو جگہ نکلتی ہے نہ ہی کوئی اس کی خواہش کرتا ہے۔ اس ’’آسودگیٔ ناآسودگاں‘‘ پر جز ماتم اور کیا کیا جاسکتا ہے اس پر غور کرنا چاہئے۔
مولوی صاحب نے جس کتاب کا مذکورہ دیباچہ لکھا وہ پہلی صدی عیسوی میں لکھی گئی ایک یونانی مورخ اور سوانح نگار پلوٹارک کی تصنیف (زندگیاں) ہے جس کے معرکۃ الآرا ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا جب بابائے اُردو جیسی شخصیت نے اسے ’’دُنیا کی اُمہات الکتب میں سے ایک‘‘ قرار دیا ہو۔ کتاب کا نام بعض جگہوں پر ’’متوازی زندگیاں‘‘ بھی ملتا ہے (پیرالل لائیوز)۔ اُردو میں اس کتاب کا چار جلدوں میں ترجمہ ’’مشاہیر ِ یونان و رومہ‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ مارٹن سیمور۔ اسمتھ نے جب سو عظیم کتابو ں پر مضامین لکھے تو ان میں ایک مضمون پلوٹارک کی اس کتاب پر بھی لکھا۔ ہرچند کہ اس میں کتاب کی کوئی خاص تعریف نہیں کی گئی مگر سو عظیم کتابوں میں شامل کرکے اسے عظیم تو بہرحال تسلیم کیا گیا تھا۔
مارٹن سیمور اسمتھ کا ماننا نہ ماننا اتنا اہم نہیں جتنا مولوی عبدالحق کا کہا اہم ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’آج آپ کو ایک ایسی کتاب کا حال سناتا ہوں جو آج کل کی نہیں، صدی دو صدی کی بھی نہیں بلکہ سن عیسوی کی پہلی صدی کی لکھی ہوئی ہے۔ یہ اب تک زندہ ہے۔ یہ لافانی ہے۔ اس نے بہت سے مردہ دِلوں کو زندہ دل بنا دیا۔ بہت سے سوتے ہوؤں کو بیدار اور غافلوں کو ہشیار کردیا۔ بہت سی قوموں میں قومیت و انسانیت کی روح پھونک دی۔ اس میں اب بھی اِسی سحرکاری کی قوت موجود ہے بشرطیکہ ہمیں اپنی آوارہ خوانی سے فرصت ہو۔‘‘ (افسوس کہ اب آوارہ خوانی بھی نہیں رہی)۔
مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ ’’جب رومہؔ کی قدیم سلطنت خانہ جنگیوں کی بدولت پارہ پارہ ہوگئی نیز مذہب عیسوی کے تازہ فروغ نے یونان قدیم کی تہذیب و حکمت کو برباد کردیا تو چوتھی سے تیرہویں صدی تک براعظم یورپ میں سخت جمود کی کیفیت طاری رہی..... صدیوں تک اسی خراب حالت میں پڑے رہنے کے بعد آخر کار اہل مغرب میں حرکت پیدا ہوئی اور اندلس کی اسلامی درس گاہوں کے طفیل سے اور یونانی پناہ گزینوں کے اثر سے جو ترکی (لوگ) فتح قسطنطنیہ کے بعد جنوبی یورپ میں بھاگ آئے تھے، یونانِ قدیم کے فلسفہ و حکمت اور رومی قوانین و نظام ِسلطنت کا علم ان ممالک میں پھیلا اور محض اس کی بدولت ذہنی ترقیوں کا وہ دور یورپ میں شروع ہوا جسے بجا طور پر اہل یورپ بیداری (نشاۃ الثانیہ) سے تعبیر کرتے ہیں۔‘‘ مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ اہل یورپ کے ذہنوں کو جن کتابوں نے روشن کیا اور جن کی وجہ سے وہ قعر مذلت سے باہر نکل کر اوج کمال تک پہنچے اُن میں سے ایک کتاب پلوٹارک کی ’’زندگیاں‘‘ ہے (جس کے اُردو ترجمہ کا عکس آپ نے نیچے تصویر میں دیکھا)۔
مَیں یہ کتاب پڑھ رہا ہوں اور اس میں مشکل یہ پیش آرہی ہے کہ قدیم ناموں سے نہ تو انسیت ہے نہ ہی وہ آسانی سے یاد رہ پاتے ہیں مگر چو نکہ مولوی عبدالحق نے اس کی تعریف کی ہے تو بہ دِقت ِتمام ہی سہی، اس کے مطالعہ کو فرض عین سمجھتا ہوں۔ افسوس یہ ہے کہ مولوی صاحب کی ایک تحریر جس میں اس کا تذکرہ موجود ہے اب سے پہلے میری نظر سے نہیں گزری ورنہ ’’مشاہیر یونان و رومہ‘‘ کے کئی ابواب تو اب تک پڑھ چکا ہوتا۔
افسوس یہ بھی ہے کہ آج کا انسان آسانی کے باوجود دشواری میں ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک کتاب قابل رسائی ہوگئی ہے مگر چونکہ کتابوں سے دلچسپی نہیں رہ گئی ہے اس لئے ہر وہ کتاب جو دستیاب ہے اُس تک بھی پہنچنے کی چاہ نہیں۔ سوچئے ’’مشاہیر...‘‘ جیسی جن کتابوں نے اہل مغرب کو بیدار کیا وہ آج کی دُنیا کو دستیاب ہیں مگر دُنیا بیدار نہیں ہونا چاہتی، غارت و غلطاں ہی رہنا چاہتی ہے۔