اسرائیلی حملوں میں شدت، حماس کے کئی اہم لیڈر شہید

Updated: May 13, 2021, 8:20 AM IST | gaza

رات بھربمباری، غزہ کا پولیس ہیڈ کوارٹرز اور کئی دیگرعمارتیں تباہ، رہائشی علاقوں کو بھی نہیں بخشا گیا، جاں بحق ہونےوالوں کی تعداد ۵۳؍ ہوگئی، ۱۴؍ بچے اور ۳؍ خواتین شامل

There is chaos in Palestinian hospitals. A large number of children have been affected by the Israeli attacks.Picture:PTI
فلسطین کے اسپتالوں میں افراتفری کا عالم ہے۔ اسرائیلی حملوں میں بچے بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں تصویرپی ٹی آئی

 عالمی سطح پر مذمت اور حملے روکنے کی اپیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل نے منگل کی شام سے بدھ کی صبح تک  غزہ  میں  شدید بمباری کا سلسلہ جاری رکھا جس میں  پولیس ہیڈ کوارٹرز اور سلامتی دستوں کی کئی بلڈنگ کو بھی  تباہ کردیاگیا۔   حماس  نے بمباری میں غزہ شہر  کے اپنے  کمانڈر باسم  عیسیٰ اور کئی دیگر اہم اراکین  کے شہیدہونے کی تصدیق کی ہے۔  پیر کی رات سے شروع ہونے والی بمباری میں جاں بحق ہونے   والے فلسطینیوں کی تعداد ۵۳؍ ہوگئی ہے جن میں ۱۴؍ بچے  اور ۳؍ خواتین شامل ہیں۔ 
پورے غزہ پر بمباری، دردناک مناظر
 غزہ میں مقامی افراد نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پوری غزہ پٹی کو نشانہ بنایاگیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہاہے مگر ا س کے حملوں میں پولیس ہیڈ کوارٹرز اور سلامتی دستوں کی دیگر عمارتیں  تباہ   ہوگئی ہیں۔غزہ شہر کے علاقے  تل الهوا  میں اسرائیلی بمباری میں ایک شخص، اس کی حاملہ  بیوی اور ۵؍ سالہ بچہ  اس وقت جاں بحق ہوگئے جب اسرائیلی جنگجو طیاروں نے ان کے گھر پر بمباری کی ۔
 غزہ کے محکمہ صحت نے بتایا ہے کہ پیر کی رات سے شروع ہونےو الی اسرائیل کی جارحانہ بمباری میں  (خبر لکھے جانے تک ) ۵۳؍ افراد شہید ہوچکے ہیں  جن میں ۱۴؍ بچے اور ۳؍ خواتین  ہیں۔ ان کے علاوہ ۳۰۰؍ سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ کروڑوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے اور سیکڑوں بے گھر ہوگئے ہیں۔ 
جوابی حملوں میں ۶؍ اسرائیلی شہری  ہلاک
 دوسری طرف اسرائیل  کے جنگجو طیاروں کی وحشیانہ بمباری کے جواب میں  حماس کی جانب سے داغے گئے راکٹوں  سے ۶؍ اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔  بتایاجارہاہے کہ غزہ سے ۱۵۰۰؍ راکٹ داغے گئے ہیں۔ حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی تنظیم اسرائیل کی جارحیت کا پوری طاقت سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ 
جنگ بندی سے قبل مزید حملوں کا انتباہ
 عالمی مذمت اور اپیلوں کے باوجود اسرائیلی  وزیر دفاع بینی گینٹز نے حملوں میں کسی طرح کی کمی  کے امکان سے انکار کیا  ہے۔ ان کے مطابق ابھی کوئی تاریخ طے نہیں ہے کہ حملے کب روکے جائیں گے۔ اسرائیلی شہر اشکیلون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید حملوںکا انتباہ  دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’فوج حملے جاری رکھے گی اور طویل عرصے کیلئے خاموشی کو یقینی بنائے گی۔‘‘  انہوں نے فاتحانہ لہجے میں کہا کہ’’غزہ میں ٹاور زمیں بوس ہورہے ہیں، فیکٹریاں تباہ ہو رہی ہیں ،سُرنگوں کو ختم کیا جارہاہے اور جنگجو کماندر ہلاک کئے جارہے ہیں۔‘‘ 
غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج تیاری میں مصروف
 اس  بیچ الجزیرہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل حماس سےلگی  اپنے سرحد پر فوجی  انتظامات میں مسلسل اضافہ کررہا ہے جس کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ تل ابیب  مزید جارحانہ کارروائیوں  کا ارادہ رکھتا ہے۔ سرحد پر کئی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کردی گئی ہیں۔ اسرائیل فضائی حملوں کے بعد اگلے مرحلے کی لڑائی کی بھی تیاری کرتا ہوا نظر آرہا ہے یا پھر وہ اہل غزہ کو اس طرح کا سخت پیغام دینا چاہ رہاہے۔ 

palestine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK