زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اتوار کو کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے سے کسانوں، ڈیری اور مسالا پیدا کرنے والوں کے مفادات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 7:03 PM IST | Bhopal
زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اتوار کو کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے سے کسانوں، ڈیری اور مسالا پیدا کرنے والوں کے مفادات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اتوار کو کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے سے کسانوں، ڈیری اور مسالا پیدا کرنے والوں کے مفادات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بھوپال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہاکہ ’’ہم اعتماد کے ساتھ ملک کے مفاد میں فیصلے لیتے ہیں۔ ہم سودے بازی نہیں کرتے، بلکہ متوازن حکمت عملی اپناتے ہیں اور مثبت بات چیت کرتے ہیں۔ یہ تجارتی معاہدہ سفارت کاری، ترقی اور کسانوں کے احترام کی ایک مثال ہے۔‘‘
سنگھ نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ نہ صرف ہندوستانی کسانوں کی مکمل حفاظت کرتا ہے بلکہ زرعی مصنوعات کے لیے نئے مواقع بھی کھولتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’اس معاہدے میں کوئی بھی ایسی مصنوعات شامل نہیں ہے جس سے ہندوستانی کسانوں کو نقصان پہنچے۔ تمام حساس اشیاء کو معاہدے سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے۔ گوشت، پولٹری، ڈیری، سویابین، مکئی، چاول، گندم، چینی، موٹے اناج، کیلے، اسٹرابیری، چیری، ترش پھل، سبز مٹر، کابلی چنا، مونگ، تلہن، ایتھنول اور تمباکو جیسی مصنوعات پردرآمدی ڈیوٹی میں کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے۔ بغیر چھلکے والے اناج اور آٹا، آلو ، پیاز، مٹر، بینز، کھیرا، مشروم، فروزن سبزیاں، سنترے، انگور، لیموں اور مکس ڈبا بند سبزیاں بھی ہندستان نہیں آئیں گی۔‘‘مرکزی وزیر موصوف نے کہا کہ تمام بڑی زرعی مصنوعات کو باہر رکھا گیا ہے۔ امریکہ کے لیے ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا گیا۔ کئی امریکی مصنوعات ہندستان نہیں آئیں گی، اسٹرابیری، دہی، بٹر آئل، پنیر، چیز، آٹا، مکئی، چاول، آلو پیاز، دلہن، لیموں اور دیگر زرعی مصنوعات کو ہندوستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
وزیر زراعت نے کہا کہ اس کے علاوہ مسالوں میں بھی کالی مرچ، لونگ، خشک ہری مرچ، دھنیا، زیرہ، ہینگ، دار چینی، ادرک، ہلدی اور اجوائن جیسے مصالحے امریکہ سے ہندوستان میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے زرعی مفادات مکمل طورپر محفوظ ہیں۔ بہت سے ہندوستانی مسالوں اور زرعی مصنوعات کو امریکہ میں زیرو ڈیوٹی انٹری ملے گی، لیکن امریکی مصنوعات کو ہندوستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سنگھ نے کہا کہ بہت سی ہندوستانی زرعی مصنوعات پر درآمدی محصول کو صفر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان میں مصالحے، چائے، کافی، ناریل، ناریل کا تیل، سپاری، کاجو، ونسپتی موم، اواکاڈو، آم اور کچھ اناج بھی شامل ہیں۔‘‘وزیر زراعت نے کہا کہ ۲۵۔۲۰۲۴ء میں مصالحوں کی برآمدات میں ۸۸؍ فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اب، ہمارے مصالحوں کو بھی نئی مارکیٹ ملیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے ہندوستانی کسانوں، خواتین اور خاص طور پر نوجوانوں کو اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بارسلونا اور ریئل سوسائیداد کی فتوحات؛ شدید بارش سے لا لیگا کا شیڈول متاثر
سنگھ نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں بھی ہندوستان کی مسابقتی ممالک کے مقابلے میں ہندوستان پر درآمدی ڈیوٹی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہندوستانی ٹیکسٹائل کی برآمدات کو بھی فروغ ملے گا، نیز ایم ایس ایم ای اور خواتین کو سیلف ہیلپ گروپس میں بھی مدد ملے گی۔ ہم نے نو ممالک کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کیے ہیں۔ یہ معاہدے ہندوستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’بھوت بنگلہ ‘‘طے شدہ تاریخ سے ایک ماہ پہلے ریلیز ہوگیس
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کو عالمی منڈی سے جوڑنے میں ناکام رہی اور موجودہ حکومت نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ مزید برآں، ہندوستان سے زرعی مصنوعات صفر ڈیوٹی پر برآمد کی جائیں گی۔ یہ معاہدہ ۲۰۴۷ء تک ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ایک سنگ میل ہے۔