فرانس کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ ، روس کا امریکہ اوراسرائیل پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ،یورپی یونین کی تحمل کی اپیل
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 1:14 AM IST | Washington
فرانس کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ ، روس کا امریکہ اوراسرائیل پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ،یورپی یونین کی تحمل کی اپیل
اسرائیل اور امریکہ کے سنیچر کو ایران پر حملے کے بعدنیا عالمی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اس سے عملاً مشرقِ وسطیٰ ایک نئے فوجی تصادم کی طرف بڑھ گیا ہے۔حملے پر عالمی برادری کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔عالمی برادری نے امن کی اپیل کی ہے اور علاقائی مسئلہ کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ فرانس نے اسے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے جوہری اور بیلسٹک پروگراموں اور علاقائی سرگرمیوں پر ’نیک نیتی سے بات چیت‘ کرنی چاہیے۔ فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے قریبی شراکت داروں کی حفاظت کے لیے وسائل کی تعیناتی کے لیے تیار ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ روس نے ایک بیان میں اسے ’پہلے سے سوچی سمجھی اور بلا اشتعال جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو فوری طور پر سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
جرمن حکومت کے ترجمان ا سٹیفن کارنیلیس نے کہا کہ وفاقی حکومت کوسنیچر کی صبح ایران کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ سوئس وزارت خارجہ میں کمیونی کیشن کے سربراہ نکولاس بیڈو نے روسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سوئزرلینڈ کے ذریعے قائم ہونے والا مواصلاتی چینل بدستور فعال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئزرلینڈ ایران میں امریکی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کیلئے ’اچھے دفاتر‘ فراہم کرتا ہے۔
یورپی یونین (ای یو) نے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ یورپی یونین نے اس پیش رفت کو ’شدید تشویش کا معاملہ ‘قرار دیا۔ ایک مشترکہ بیان میں، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے تمام فریقوں سے تحمل کے مظاہرہ کی اپیل کی ہےجس میں کہا ہےکہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور بین الاقوامی قانون کا مکمل احترام کریں۔ انہوں نے جوہری سلامتی کو یقینی بنانے اور ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو یا جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کو نقصان پہنچے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور غیر ضروری یورپی یونین کے اہلکاروں کو خطے سے نکالا جا رہا ہے۔
فن لینڈ کے وزیر اعظم پیٹری اورپو نے کہا کہ خطے میں فوجی تناؤ ایک بار پھر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور یہ کہ جلد از جلد حملوں اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کو روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فن لینڈ کا خیال ہے کہ ایران کی صورت حال کا طویل مدتی حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع میں مزید نہ الجھے۔ انہوں نے کہا کہ فعال اور سنجیدہ مذاکرات کو ایک بار پھر نقصان پہنچایا گیا ہے اور یہ نہ تو امریکہ کے مفاد میں ہے اور نہ ہی عالمی امن کے۔ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں کی مذمت کی۔ دوسری جانب اردن نے کہا کہ وہ کسی علاقائی کشیدگی کا حصہ نہیں بننا چاہے گا۔
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے اس بات پر سخت پریشانی کا اظہار کیا ہے کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعدمشرق وسطیٰ میں ایک نئی، وسیع جنگ شروع ہو رہی ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے اس حملے کو ایک دفاعی اقدام قرار دیا لیکن یہ بھی کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق نہیں ہے کیونکہ دفاعی حملوں کے لیے کسی فوری خطرے کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔‘‘