امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی ، ایران کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا ، ایران کی جانب سے منہ توڑ جواب ، اسرائیل کے ساتھ ساتھ عرب ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر میزائل برسائے، دُنیا بھر سے تحمل کی اپیلیں
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 1:00 AM IST | Tehran
امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی ، ایران کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا ، ایران کی جانب سے منہ توڑ جواب ، اسرائیل کے ساتھ ساتھ عرب ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر میزائل برسائے، دُنیا بھر سے تحمل کی اپیلیں
اسرائیل نے امریکہ کی حمایت سے سنیچر کی ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی بڑے شہروں پر فضائی حملے کردئیے ۔ اس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل سمیت کچھ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کے علاوہ ایران نے یہ حملے بحرین، متحدہ عرب امارات، عراق، کویت اور قطر پر کئے ہیں۔ ان ممالک میں امریکی فوجی اڈے ہیں۔ قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ان حملوں کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے خطرات کو ختم کرنے کیلئے ایران پر پہلے سے حملہ کیا ہے۔ کاٹز نے یہ بھی اطلاع دی کہ ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ ایران اسرائیل اور اس کے شہریوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کرے گا۔ دریں اثناء ایران میں کئے گئے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے صرف تہران میں کئی مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور بعض علاقوں میں دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ کم از کم ایک حملہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے منسلک دفاتر کے قریب ہوا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق میزائل یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری کے علاقے کے قریب گرے ہیں۔
جمہوری کے علاقے میں بھی دھماکوں کی اطلاع ملی، جس میں سرکاری دفاتر واقع ہیں۔ حملوں کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہاکہ آج رات، میں ایران کے انقلابی گارڈ کے اراکین ، سیکوریٹی فورسز اور تمام پولیس افسران سے کہتا ہوں، آپ اپنے ہتھیار ڈال دیں، اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ کو موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز ہی امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور اختتام پذیر ہوا ہے۔ ان مذاکرات کے اختتام کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی پیش رفت سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فردو، نطنز اور اصفہان میں اپنی جوہری تنصیبات بند کردے اور یورینیم کو ملک سے منتقل کیا جائے، یہ مطالبات تہران نے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نےقوم سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا ہے جس کا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے لاحق وجود کے خطرے کو بے اثر کرنا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تاریخی قیادت کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ صبح سویرے ہونے والے حملوں کے بعد پینٹاگون اور امریکی محکمہ دفاع نے مشترکہ آپریشن کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا ہے۔ پچھلے سال ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف اسی طرح کے حملوں کا کوڈ نام ’’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘‘ تھا۔ ان حملوں کی وجہ سےایران میں انٹرنیٹ سروس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ نیٹ بلاکس نامی تنظیم نے کہا ہے کہ ایران میں اس وقت انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے ۔