بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی مقدمے میں جرمنی نے اسرائیل کی حمایت واپس لی، اس بابت برلن کا کہنا ہےکہ وہ ان قانونی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے جو نکاراگوا نے شروع کی ہیں۔
EPAPER
Updated: March 24, 2026, 8:06 PM IST | Hague
بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی مقدمے میں جرمنی نے اسرائیل کی حمایت واپس لی، اس بابت برلن کا کہنا ہےکہ وہ ان قانونی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے جو نکاراگوا نے شروع کی ہیں۔
جرمنی نے جنوبی افریقہ کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں اسرائیل کے خلاف دائر نسل کشی کے مقدمے میں اسرائیل کی اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔ اتوار کو رپورٹس میں کہا گیا کہ برلن کا کہنا ہے کہ وہ ان قانونی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے جو نکاراگوا نے شروع کی ہیں۔جرمن نشریاتی ادارے این-ٹی وی کے مطابق، جرمن دفتر خارجہ کے ترجمان جوزف ہنٹرسیہر نے بتایا کہ ’’ہم خود اببین الاقوامی عدالت انصاف میں ایک متنازعہ قانونی کارروائی کا حصہ ہیں اور اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ (اس مقدمے میں مداخلت کے) اس اختیار کو استعمال نہ کریں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جرمن حکومت اس کی بجائے ان قانونی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرے گی جو نکاراگوا نے شروع کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے ۹۶؍ فیصد بچوں کو لگتا ہے کہ موت قریب ہے: اقوام متحدہ
واضح رہے کہ نکاراگوا نے موسم بہار۲۰۲۴ء میں جرمنی کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ دراصل جنوبی افریقہ نے دسمبر۲۰۲۳ء میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں تل ابیب پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔جبکہ جنوری۲۰۲۴ء میں، برلن نے جنوبی افریقہ کے دعوؤں کو،’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ۱۹۴۸ء کے نسل کشی کنونشن کی ’’سیاسی استحصال‘‘ کے مترادف ہے۔ یہ کنونشن ہولوکاسٹ کے بعد بین الاقوامی قانون میں اس جرم کی وضاحت کرتا ہے۔ جرمنی نے اس وقت کہا تھا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے اس مقدمے میں مداخلت کرے گا۔جس کے بعد مارچ۲۰۲۴ء میں، نکاراگوا نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ جرمنی اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرکے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی میں معاونت اور شراکت کر رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے خلاف آئی سی سی کیس کے جج پر پابندیاں، روزمرہ زندگی مفلوج
دریں اثناء جرمنی کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا، ’’ہم نکاراگوا کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جو اس نے جرمنی کے خلاف آئی سی جے میں لگائے ہیں۔بعد ازاں جب یہ پوچھا گیا کہ کیا جرمن حکومت اب یہ موقف نہیں رکھتی کہ اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا الزام ’’مکمل طور پر بے بنیاد‘‘ہے، تو ترجمان نے کہا کہ یہ الزام بین الاقوامی عدالت انصاف میں زیر سماعت ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اور یقیناً، ہم اس کا نتیجہ انتظار کریں گے۔‘‘اپنی درخواست میں، جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر اکتوبر 2023 سے غزہ میں فلسطینیوں کے خاتمے کے لیےمنظم طور پر اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر اپنے مسلسل حملوں میں۷۲؍ ہزار سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، کو شہید کیا ہے اورتقریباً ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زائد کو زخمی کیا ہے۔