Updated: March 23, 2026, 8:02 PM IST
| Gaza
غزہ میں جاری دو سال سے زائد عرصے کی نسل کشی نے بچوں اور نوجوانوں کی زندگیوں پر گہرے نفسیاتی اثرات ڈال دیئے ہیں، جنہیں اقوامِ متحدہ کے عہدیدار ’’گہرا ذہنی صحت کا بحران‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ کم عمری کی شادی، غربت اور محدود صحت کی سہولیات نے لڑکیوں کو سب سے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے، جبکہ نفسیاتی دباؤ، پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس، ڈپریشن اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات انسانی بحران کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ اس بحران کے اثرات نہ صرف جسمانی اور نفسیاتی ہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی لڑکیوں اور نوجوانوں کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق کر رہے ہیں۔
دو سال سے زائد عرصے پر محیط نسل کشی نے فلسطین کے بچوں اور نوجوانوں کو ایسی حالت میں دھکیل دیا ہے جسے اقوامِ متحدہ کے ایک عہدیدار نے ’’گہرا ذہنی صحت کا بحران‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ یو این ایف پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کے ۹۶؍ فیصد بچے یہ محسوس کرتے ہیں کہ موت قریب ہے۔ اقوامِ متحدہ کے جنسی و تولیدی صحت کے ادارے یو این ایف پی اے میں نو عمر اور نوجوانوں کے پروگرام کی افسر سیما علامی نے تشویش ناک اعداد و شمار کے ساتھ ایک نہایت سنگین تصویر پیش کی۔ انسانی بحرانوں میں اکثر نظر انداز کر دیئے جانے والے نوجوانوں اور نوعمروں میں نفسیاتی اثرات بھی اتنے ہی شدید ہوتے ہیں۔ العلامی نے بتایا کہ غزہ میں تقریباً ۶۱؍ فیصد پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کا شکار ہیں، ۳۸؍ فیصد ڈپریشن میں مبتلا ہیں اور ۴۱؍ فیصد بے چینی (اینزائٹی) کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بالغ تقریباً روزانہ خودکشی کے بارے میں سوچتا ہے۔ یہ اس خوف اور صدمے کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے جس کا وہ روزانہ سامنا کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: خرج جزیرہ پر ہدف، اسرائیل پر اربوں کا بوجھ، امریکہ نے ہزاروں فوجی تعینات کئے
اس بحران کے دوران لڑکیاں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ غزہ میں کم عمری کی شادی، جو پہلے کم ہو رہی تھی، دوبارہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کی شرح ۲۰۰۹ء میں ۵ء۲۵؍ فیصد سے کم ہو کر ۲۰۲۲ء میں ۱۱؍ فیصد رہ گئی تھی، لیکن اب خاندانوں کی بقا کی جدوجہد کے باعث یہ شرح دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ یو این ایف پی اے کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق غزہ میں ۷۱؍ فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ ۱۸؍ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کیلئے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک مختصر نگرانی کے عرصے میں ہی ہنگامی عدالتوں کے ذریعے ۱۴؍ سے ۱۶؍ سال کی عمر کی لڑکیوں کیلئے ۴۰۰؍ سے زائد نکاح نامے جاری کئے گئے، تاہم اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ علامی نے وضاحت کی کہ ’’کچھ خاندان شادی کو بے گھر ہونے، غربت اور عدم تحفظ کے درمیان بقا کی حکمت عملی کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ عمل بھیڑ بھاڑ والی پناہ گاہوں میں تحفظ فراہم کرتا ہے یا روزگار کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
۲۰۲۵ء میں غزہ میں نئے رجسٹر ہونے والے حملوں میں سے تقریباً ۱۰؍ فیصد کم عمر لڑکیوں کے تھے، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اسی دوران صحت کی سہولیات تک رسائی میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت غزہ میں صرف ۱۵؍ فیصد طبی مراکز ہی ہنگامی زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے کے قابل ہیں، جس کے باعث کم عمر ماؤں اور ان کے بچوں کیلئے پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ علامی نے کہا، ’’کچھ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم عمری میں شادی کرنے والی ۶۳؍ فیصد لڑکیاں جسمانی، نفسیاتی یا جنسی تشدد کا شکار ہو چکی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے خلاف آئی سی سی کیس کے جج پر پابندیاں، روزمرہ زندگی مفلوج
رپورٹس کے مطابق کم عمر شادی شدہ لڑکیوں میں طلاق کی شرح میں اضافہ اور شدید نفسیاتی دباؤ عام ہوتا جا رہا ہے۔ انتہائی سنگین صورتوں میں اس کے نتائج جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’تشدد کا شکار افراد میں ۱۰۰؍ سے زائد خودکشی یا خودکشی کی کوششوں کے واقعات ریکارڈ کئے جا چکے ہیں‘‘، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کم عمری کی شادی دراصل صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کی ایک شکل ہے۔