نظام صحت تباہ، تعلیمی نظام مکمل طور پر مفلوج ہونے کی وجہ سے۶؍لاکھ سےزیادہ بچے مسلسل تیسرے سال اسکول جانے سے قاصر رہیں گے۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 10:27 AM IST | Gaza
نظام صحت تباہ، تعلیمی نظام مکمل طور پر مفلوج ہونے کی وجہ سے۶؍لاکھ سےزیادہ بچے مسلسل تیسرے سال اسکول جانے سے قاصر رہیں گے۔
۳؍ عالمی غیر سرکاری تنظیموں نے جمعرات کو کہا کہ اقوام متحدہ کے غزہ کے لئے امن منصوبے کی منظوری کے ۶؍ ماہ سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود وہاں انسانی صورتحال بدترین ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
بین الاقوامی تنظیم آکسفیم، سیو دی چلڈرن اور ریفیوجیز انٹرنیشنل کے نمائندوں نےجمعرات کو نیو یارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل کے وعدوں اور فلسطینیوں کے سامنے موجود حقیقی حالات کے درمیان بڑے خلا ءباقی ہیں۔
آکسفیم امریکہ کی صدر ایبی میکس مین نے کہا، ’’اسرائیل نے زیادہ تر تجربہ کار امدادی اداروں کو ضروری ساز و سامان لانے سے روک رکھا ہےجیسے پانی کے نظام کی مرمت کے لئے پائپ، پناہ گاہیں، تعمیراتی میٹریل اور طبی ساز و سامان جو فی الحال درکار ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ سب اس کے باوجود ہو رہا ہے جب تعمیر نو، معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی کے وعدے کئے گئے تھے۔ ‘‘ حال ہی میں غزہ سے واپس آنے والی امریکی سرجن ٹیریسا سولڈنر نے کہا، ’’ تشدد بھی بے رحمی سے جاری رہا ہے اور مسلسل اسرائیلی حملے ہو رہے ہیں۔ ‘‘سولڈنر نے کہا، ’’جب میں غزہ میں تھی تو روزانہ صدمے میں مبتلا مریض آتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ فلسطینی نظامِ صحت بالکل تہس نہس ہو چکا ہے۔ ‘‘
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر۲۰۲۵ءمیں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی اور اس میں انسانی امداد کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سیو دی چلڈرن کی جانتی سوریپٹو نے کہا، ’’ہمارے ہیلتھ کلینکس میں اب بھی شدید غذائی قلت کے شکار بچےآ رہے ہیں ۔ جنوری سے اپریل تک ان کی تعداد بڑھی ہے۔ ‘‘سوریپٹو نے کہا، ’’ تعلیمی نظام مکمل طور پر مفلوج ہونے کی وجہ سے۶؍لاکھ سےزیادہ بچے مسلسل تیسرے سال اسکول جانے سے قاصر رہیں گے۔ ‘‘ میکس مین نے مزید کہا کہ صفائی اور حفظانِ صحت کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے خاندان کھلے گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خطرے میں ہیں اور اہم پانی و نکاسی آب کے نظام اور خدمات اب بھی تباہ یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
یادرہے کہ غزہ میں جنگ بندی باضابطہ طور پر ۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو نافذ ہوئی تھی۔