Inquilab Logo Happiest Places to Work

صمود فلوٹیلا کے کارکنان نے اسرائیلی حراست میں مار پیٹ، تذلیل اور تشدد کے لرزہ خیز واقعات بیان کئے

Updated: May 22, 2026, 7:03 PM IST | Istanbul

کارکنوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں باندھ کر جیل جیسے حالات میں قید رکھا اور ان پر تشدد کیا۔ کئی کارکنوں کی پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ سنگین تشدد کے باوجود، کارکنوں کا ماننا ہے کہ ان کی تکالیف کا غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش حالات سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گلوبل صمود فلوٹیلا کے اسپرنگ مشن ۲۰۲۶ء نامی بحری بیڑے پر سوار کارکنوں نے بین الاقوامی پانیوں میں امدادی کشتیوں کو روکے جانے اور انہیں حراست میں لئے جانے کے بعد، اسرائیلی افواج کی جانب سے شدید مار پیٹ، تذلیل اور ناروا سلوک کے واقعات بیان کئے ہیں۔ ترکش ایئرلائنز کی پروازوں کے ذریعے استنبول ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، متعدد کارکنوں نے بتایا کہ اسرائیلی حراست میں انہیں باندھ کر جیل جیسے حالات میں قید رکھا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا، ۔

نیوزی لینڈ کے کارکن موسیٰ طاہر نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں پہچان لیا کیونکہ وہ اس سے قبل بھی غزہ جانے والے گلوبل صمود کے بحری بیڑے پر سوار ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجیوں نے انہیں اور ایک دوسرے کارکن کو زبردستی کپڑے اتارنے پر مجبور کیا، جبکہ باقی مسافروں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اعلان کر دیں کہ فلسطینی دوسرے درجے کے شہری ہیں: فلسطینی سفیر یو این میں برہم

طاہر نے اپنے چہرے اور ٹانگ پر زخموں کو دکھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ایک اسرائیلی فوجی نے ان کی منت سماجت کے باوجود ان کے ہاتھوں پر لگی پلاسٹک کی ہتھکڑیاں مزید کس دیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ”پھر اس نے اپنا بوٹ میرے چہرے پر رکھا اور ایسے تصویر کھینچی جیسے اس نے کسی جانور کو پکڑا ہو۔“ انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک بحری جہاز، جسے انہوں نے جیل کے مترادف قرار دیا، پر قید رکھا گیا جہاں متعدد دفعہ تشدد کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”انہوں نے ہمیں ذلیل کیا، ہمیں زمین پر رینگنے پر مجبور کیا، صرف یہ احساس دلانے کیلئے کہ ہماری کوئی اوقات نہیں ہے۔“

موریطانیہ سے تعلق رکھنے والے کارکن اسلمو اولڈ معلوم نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے حراست میں لئے گئے افراد کے خلاف تشدد کی انتہا کردی۔ انہوں نے کہا کہ ”ہر بار جب وہ تشدد کا استعمال کرتے ہیں اور اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، تو وہ مزید تشدد کرتے ہیں،“ انہوں نے مزید کہا کہ کئی کارکنوں کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا کارکنوں کی تذلیل پر عالمی غصہ، اسرائیل کے خلاف سخت ردعمل

کنیڈا کے کارکن ایہاب لطایف نے اپنے ہاتھ پر بندھی پٹی دکھاتے ہوئے کہا کہ ایک اسرائیلی فوجی نے انہیں اس وقت چاقو مارا جب وہ حراست میں لئے گئے افراد میں پانی تقسیم کرنے میں مدد کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ”ہمیں بہت بری طرح مارا پیٹا گیا۔ یہ کوئی ذاتی دفاع نہیں تھا، وہ ہمیں سزا دے رہے تھے۔“

وینکوور سے تعلق رکھنے والے ایک اور کنیڈین کارکن، مائیکل فرانس نے بتایا کہ قیدیوں کو شپنگ کنٹینرز کے اندر رکھا گیا تھا جنہیں جیل کے تنگ کمروں میں تبدیل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، ”وہاں ٹیزر گنز (کرنٹ لگانے والے آلات) سے ہمارا استقبال کیا گیا۔ رات بھر ہر دو یا تین گھنٹے بعد ہم پر فلیش بینگز (صوتی بم) پھینکے جاتے تھے۔“ فرانس نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے فوجی بوٹوں کے ساتھ ان کے ننگے پیروں کو کچلا اور ان کے سر اور جسم پر بار بار وار کئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اقوام متحدہ کے مطابق چوہوں اور کیڑوں کے سبب جلد کے انفیکشن میں اضافہ

اطالوی صحافی اور کارکن الیسانڈرو مانتووانی نے بتایا کہ اسرائیلی حراست میں انہیں گھونسے اور لاتیں ماری گئیں۔ اطالوی رکنِ پارلیمنٹ ڈاریو کاروٹینوٹو نے الزام لگایا کہ حراست کے دوران ان کی آنکھ پر وار کیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ماوری کارکن ہاہونا اورمسبی نے بتایا کہ حراست کے دوران انہیں لاتیں اور گھونسے مارے گئے اور ایک کرسی سے باندھ دیا گیا۔ فوجیوں نے ان کے مقامی ٹیٹوز اور وضع قطع کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا۔ اس قدر سنگین تشدد کے باوجود، متعدد کارکنوں نے کہا کہ ان کی تکالیف کا غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش حالات سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطین حامی کارکنوں کا ہندوستان پر اسرائیل کو فولاد فراہم کرنے کا الزام

امریکہ نے فلوٹیلا کے منتظمین پر پابندیاں عائد کردی

امریکی انتظامیہ نے منگل کے دن گلوبل صمود فلوٹیلا سے منسلک چار منتظمین پر پابندیاں عائد کر دی اور ان پر ”دہشت گردوں کے حامی“ ہونے کا الزام لگایا۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ فلوٹیلا ”خطے میں مستقل امن“ کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش تھا۔ پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں سیف ابو کیشک شامل ہیں۔ فلسطینی نژاد ہسپانوی شہری سیف ابو کیشک صمود فلوٹیلا کے پچھلے بحری بیڑے پر سوار تھے جس پر کریت، یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی بحریہ نے حملہ کیا تھا۔ اس کارروائی میں انہیں اسرائیلی افواج نے حراست میں لیا تھا اور بعد میں ۱۰ مئی کو ملک بدر کر دیا تھا۔ ان کے علاوہ، بیلجیم سے تعلق رکھنے والے کارکن مقیم محمد خطیب، ہسپانوی کارکن ہشام عبداللہ سلیمان ابو محفوظ اور جالدیا ابوبکرا اویڈا پر بھی پابندی لگائی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK