Updated: February 28, 2026, 2:03 PM IST
| California
بڑی ٹیک کمپنیاں ویب سائٹس اور ای میلز میں اِن ویژیبل ٹریکنگ پکسلز کے ذریعے صارفین، حتیٰ کہ جو صارف نہیں ہیں، کا ڈیٹا جمع کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا کے ٹریکرز انٹرنیٹ کے بڑے حصے پر فعال ہیں، جبکہ صحت کے شعبے میں بھی حساس معلومات منتقل ہونے کے انکشافات پر قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔
ٹریکنگ پکسل دراصل ایک شفاف (1x1) گرافک فائل ہوتی ہے جو ویب سائٹس اور ای میلز میں نصب کی جاتی ہے۔ جب صارف صفحہ کھولتا ہے، تو یہ پکسل سرور کو اطلاع بھیجتا ہے، جس کے ذریعے درج ذیل معلومات جمع کی جا سکتی ہیں:آئی پی ایڈریس، براؤزر فنگر پرنٹ، وزٹ کی گئی ویب سائٹس، کلک کردہ مصنوعات اور بعض صورتوں میں حساس تلاش کی تفصیلات۔ یہ ڈیٹا کارپوریٹ سرورز تک منتقل ہو کر اشتہارات کو زیادہ درست طریقے سے نشانہ بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
’’شیڈو پروفائلز‘‘ کا تنازع
ڈجیٹل نگرانی کے سب سے متنازع پہلوؤں میں ’’شیڈو پروفائلز‘‘ شامل ہیں، یعنی ایسے افراد کا ڈیٹا جمع کرنا جن کے پاس متعلقہ پلیٹ فارم پر اکاؤنٹ بھی نہیں ہوتا۔ کمپنیاں سماجی روابط، آن لائن سرگرمی اور براؤزر فنگر پرنٹس کے ذریعے مستقل ڈجیٹل شناخت تیار کر سکتی ہیں۔ اگر کوئی شخص بعد میں اکاؤنٹ بنائے تو برسوں پرانا ڈیٹا اس کے نئے پروفائل سے منسلک ہو سکتا ہے۔
ویب پر کس کی کتنی نگرانی؟
ڈک ڈک گو کے ٹریکر رڈار کے مطابق الفابیٹ تقریباً ۷۰؍ فیصد ویب سائٹس پر ڈیٹا دیکھ سکتی ہے۔ مائیکروسافٹ تقریباً ۳۰؍ فیصد سائٹس کو ٹریک کرتی ہے۔ میٹا پلیٹ فارمز تقریباً ۷ء۱۹؍ فیصد سائٹس پر موجود ہے۔ بائٹ ڈانس کے ٹریکرز تقریباً ۵؍ فیصد سائٹس پر پائے گئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ڈجیٹل اشتہاری نظام انٹرنیٹ کے بڑے حصے پر محیط ہے۔
صحت کے شعبے میں حساس انکشافات
پی این اے ایس نیکسس میں شائع ایک مطالعے کے مطابق، تقریباً ۶۶؍ فیصد امریکی اسپتال اپنی ویب سائٹس پر ٹریکنگ پکسلز استعمال کرتے ہیں۔ مطالعے میں بتایا گیا کہ کچھ صورتوں میں مریضوں کی تلاش کردہ طبی حالتیں یا کلینک وزٹ کی تفصیلات تیسرے فریق ٹیک کمپنیوں تک منتقل ہوئیں۔ ایڈوکیٹ ارورا ہیلتھ کے خلاف کلاس ایکشن مقدمہ بھی دائر کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ میٹا پکسل اور گوگل اینالیٹکس کے ذریعے تقریباً ۳۰؍ لاکھ مریضوں کی معلومات منتقل ہوئیں۔
قانونی فریم ورک اور جرمانے
اگرچہ ٹریکنگ پکسل ٹیکنالوجی بذات خود غیر قانونی نہیں، مگر ڈیٹا اکٹھا کرنے پر عالمی قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ قوانین کے مطابق، حساس ڈیٹا کے لیے واضح اور آزادانہ رضامندی ضروری ہے۔ امریکہ میں فیڈرل ٹریٹ کمیشن نے ٹریکنگ پکسلز کے بعض استعمال کو ’’فریب کار‘‘ قرار دیتے ہوئے لاکھوں ڈالر جرمانے عائد کیے ہیں۔ صحت کے شعبے میں میٹا اور گوگل کے خلاف ۵۰؍ سے زائد کلاس ایکشن مقدمات زیر سماعت ہیں۔
رازداری بمقابلہ منافع
ڈجیٹل اشتہارات کی معیشت اربوں ڈالر پر مشتمل ہے، جہاں صارفین کا ڈیٹا بنیادی کرنسی بن چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نان یوزرز کے ڈیٹا کا ذخیرہ اور حساس معلومات کی منتقلی پر شفافیت کی کمی عالمی رازداری کے معیارات کو چیلنج کر رہی ہے۔ ٹیک کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ قوانین کی پابندی کرتی ہیں، مگر بڑھتے مقدمات اور تحقیقی رپورٹس اس بحث کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔