آئی پی ایل کے ڈیجیٹل حقوق مکیش امبانی کے نام

Updated: June 15, 2022, 1:28 PM IST | Agency | Mumbai

صنعتکار کی میڈیا کمپنی وائیکوم ۱۸؍ نے نیلامی میں اسٹار انڈیا سے آئندہ ۵؍ سال کیلئے مقبول ترین ٹورنامنٹ کے نشریاتی حقوق چھین لئے ۔ البتہ اس کے ٹیلی ویژن کے نشریاتی حقوق بچانے میں اسٹار انڈیا کامیاب رہا۔ ،مجموعی طور پر معاہدوں سے بی سی سی آئی کو ۴۴؍ ہزار ۷۵؍ کروڑ روپے حاصل ہوئے

Mukesh Ambani. Picture:INN
مکیش امبانی ۔ تصویر: آئی این این

ارب پتی کاروباری شخصیت مکیش امبانی نے دنیا کی بڑی بڑی  میڈیا کمپنیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کرکٹ کے مقبول ترین ٹورنامنٹ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل)   کی   ڈیجیٹل اسٹریمنگ  کےحقوق اپنے نام کر لئے۔  انہوں نے  ڈھائی بلین ڈالر سے زائد کے عوض اس ٹورنامنٹ کو نشر کرنے کے حقوق خرید لئے ہیں۔ کاروباری لحاظ سے اسے بہت بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ ۵؍ سال سے یہ حقوق اسٹار انڈیا کے پاس تھے۔
  ہندوستانی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے ذرائع نے منگل ۱۴؍ جون کو ممبئی میں نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ایشیا کے امیر ترین شخص مکیش امبانی نے آئی پی ایل کی آن لائن اسٹریمنگ کے جملہ حقوق ۲ء۳۶؍ بلین امریکی ڈالر (۲۰؍ہزار۵۰۰؍ کروڑ ہندوستانی روپے ) کے عوض خرید لئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ حقوق صرف برصغیر میں آئی پی ایل میچوں کی نشریات کیلئے دیئے گئے ہیں۔ 
   واضح رہے کہ انڈین پریمیر لیگ  کے میچ پوری دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کھیلوں کے مقابلوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کے ڈیجیٹل اسٹریمنگ رائٹس حاصل کرنے کیلئے دنیا بھر کی نشریاتی کمپنیاں کوشاں رہتی ہیں۔ لیکن  اب یہ معاہدہ  مکیش امبانی نے کر لیا ہے۔  حالانکہ اس  ٹورنامنٹ کے ٹی وی نشریات پر مکیش امبانی کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس ٹیلیویژن کے ذریعے نشریاتی حقوق اگلے ۵؍سال کیلئے اسٹار انڈیا کمپنی کے پاس ہی رہیں گے، جس کی مالک بہت بڑی امریکی میڈیا کمپنی ڈزنی ہے۔ اسٹاانڈیا نے یہ معاہدہ  ۲۳؍ ہزار ۵۷۵؍ کروڑ روپے میں حاصل کیا ہے۔ 
 ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ بی سی سی آئی کے مطابق ٹیلیویژن اور ڈیجیٹل دونوں طرح کے یہ حقوق مجموعی طور پر۵ء۶۵؍ بلین ڈالر کے عوض فروخت کئے گئے ہیں۔ یہ رقم اس قیمت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، جس کے عوض پچھلی مرتبہ یہی حقوق ۵؍ سال کیلئے بیچے گئے تھے۔  یاد رہے کہ کرکٹ کی نشریات کا کاروبار اپنے آپ میں ایک بہت بڑی صنعت بن چکا ہے جس کے حقوق حاصل کرنے کیلئے بڑی بڑی کمپنیوں میں مقابلہ آرائی ہوتی ہے۔ عوام میں آئی پی ایل کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہ مقابلہ آرائی اور بھی بڑھ چکی ہے۔ پہلے یہ حقوق عام طور پر میڈیا ادارے یا تفریحی کام کرنے والی کمپنیوں کو ملا کرتے تھے لیکن اب اس میں ایسی کمپنیوں نے دلچسپی لینی شروع کر دی ہے  جن کا میڈیا سے دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ البتہ ان کمپنیوں نے ان حقوق کی خاطر خود اپنی میڈیا کمپنیاں کھول لی ہیں جن میں مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس بھی شامل ہے۔ 
   یاد رہے کہ ٹی ۲۰؍ کرکٹ کا ہر سال کھیلا جانے والا ٹورنامنٹ آئی پی ایل اوسطاً دو ماہ تک جاری رہتا ہے۔ یعنی دو ماہ تک ان میچوں کے دوران دکھائے جانے والے اشتہارات کی آمدنی میں نشریاتی کمپنی کا ایک بڑا حصہ  ہوتا ہے۔ آئی پی ایل کی نشریات کے حقوق  پچھلی مرتبہ اسٹار انڈیا کے نام تھے جس نے ٹیلیوژن اور ڈیجیٹل رائٹس دونوں ہی  ۵؍ سال کیلئے خریدلئے تھے، مگر تب ان کیلئے ۲ء۵۵؍ بلین ڈالر ادا کئے  گئے تھے۔ اس مرتبہ یہ رقم دُگنا سے بھی زیادہ  ہوگئی ہے۔
    اس سال ڈیجیٹل اور ٹی وی نشریات کے معاہدوں سے بی سی سی آئی کے کھاتے  میں مجموعی طور پر ۴۴؍ ہزار ۷۵؍ کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں جو بلاشبہ بورڈ کیلئے ایک بڑی خوش خبری ہے۔  آئی پی ایل کے اگلے ۵؍ سیزن کیلئے ٹیلیویژن اور ڈیجیٹل اسٹریمنگ رائٹس تو نیلام کر دئیے گئے ہیں تاہم اسکے باقی دو طرح کے میڈیا حقوق کی نیلامی منگل کو خبر لکھے جانے تک جاری تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK