معروف اداکارہ شبانہ اعظمی نے بالی ووڈ میں آئٹم نمبرز کے بڑھتے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے گانوں میں عورت کو اکثر جسمانی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے معاشرے میں خواتین کی تصویر متاثر ہو سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 12, 2026, 7:23 PM IST | Mumbai
معروف اداکارہ شبانہ اعظمی نے بالی ووڈ میں آئٹم نمبرز کے بڑھتے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے گانوں میں عورت کو اکثر جسمانی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے معاشرے میں خواتین کی تصویر متاثر ہو سکتی ہے۔
سینئر اداکارہ شبانہ اعظمی نے حال ہی میں فلمی صنعت میں آئٹم نمبرز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر کھل کر بات کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے گانے اکثر خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے ممبئی میں منعقد ہونے والے ’’وی دی ویمن‘‘ ایونٹ کے دوران اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ شبانہ اعظمی نے کہا کہ سنیما بنیادی طور پر تصویروں اور مناظر کے ذریعے اپنی بات پہنچاتا ہے، اس لیے کیمرے کا استعمال اور کرداروں کی پیشکش بہت اہم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی عورت کے جسم کو مختلف حصوں میں دکھایا جاتا ہے تو اس سے اس کردار کی مجموعی شخصیت متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مجھے گندگی میں رہنا پسند نہیں:پرینکا چوپڑہ نے بالی ووڈ چھوڑنے کی وجہ بتائی
انہوں نے کہا کہ ’’سنیما کی تعریف امیج سے ہوتی ہے، اس لیے جب آپ تصویروں کو منقطع کر لیتے ہیں، جیسے کہ سینہ یا ناف، اور کیمرہ جسم کے گرد گھومتا ہے، تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہدایت کار کا ارادہ کیا ہے۔ مجھے آئٹم نمبرز میں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک عورت کو محض ایک شے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘ شبانہ اعظمی نے مزید کہا کہ بعض اوقات خواتین خود بھی ایسے گانوں میں حصہ لے کر اس عمل کا حصہ بن جاتی ہیں، جس پر انہیں ذاتی طور پر شدید اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر مرد ایسا کر سکتے ہیں تو خواتین کیوں نہیں کر سکتیں۔ لیکن اگر مرد کسی کو شے بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی وہی راستہ کیوں اختیار کرنا چاہیے؟‘‘
اداکارہ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ معاشرہ ایسے گانوں کو کس طرح قبول کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر چھوٹے بچے بھی ایسے گانے گاتے نظر آتے ہیں جن کے الفاظ کا مطلب وہ خود نہیں سمجھتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جب ہم تقریبات میں جاتے ہیں اور وہاں چھوٹے بچے ’’چولی کے پیچھے کیا ہے‘‘ جیسے گانے گا رہے ہوتے ہیں تو لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں، مگر کوئی بھی ان الفاظ کے معنی پر غور نہیں کرتا۔‘‘ شبانہ اعظمی نے کہا کہ انہیں اصل مسئلہ اس بات سے ہے کہ معاشرہ اس قسم کی پیشکش کو کس طرح دیکھتا اور قبول کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اکشے کمار کی ’’ویلکم ۴‘‘ پر کام شروع ہے: فیروز ناڈیاڈ والا کی تصدیق
واضح رہے کہ شبانہ اعظمی ہندوستانی سنیما کی ان نمایاں اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے متبادل اور سنجیدہ سنیما کو نئی پہچان دی۔ وہ اب تک پانچ مرتبہ بہترین اداکارہ کا نیشنل فلم ایوارڈ جیت چکی ہیں، جن میں فلمیں ’’انکور‘‘، ’’ارتھ‘‘، ’’کھندھر‘‘، ’’پار‘‘ اور ’’گاڈ مدر‘‘ شامل ہیں۔ انہیں ہندوستانی متبادل فلمی تحریک کی اہم ترین شخصیات میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ شبانہ اعظمی حال ہی میں نیٹ فلکس سیریز ’’ڈبہ کارٹیل‘‘ میں نظر آئیں جس میں گجراج راؤ، جیوتیکا، نمیشا سجین، شالینی پانڈے، انجلی آنند، سائی تمہنکر، جسو سینگپتا، للیٹ دوبے اور بھوپیندر سنگھ جاداوت نے بھی اداکاری کی۔