Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس لینے کا فیصلہ

Updated: August 24, 2026, 2:03 PM IST | Tehran

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مجاز بحری جہازوں سے مختلف خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی شق کی منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت جہاز رانی، ماحولیاتی خدمات، ایندھن کی فراہمی، انشورنس اور سکیورٹی سمیت دیگر خدمات کے لیے فیس وصول کی جا سکے گی، تاہم یہ تجویز ابھی قانون سازی کے مراحل میں ہے اور اسے پارلیمنٹ اور گارڈین کونسل کی منظوری درکار ہوگی۔

Strait Of Hormuz. Photo: INN
آبنائے ہرمز۔ تصویر: آئی این این

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے اتوار کو ایک مجوزہ قانون میں ایسی شق کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت تہران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق، کمیٹی نے ’’آبنائے ہرمز کی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک ایکشن پلان‘‘ کے مجوزہ قانون پر غور جاری رکھا۔کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے بتایا کہ ارکان نے بل کے آرٹیکل ۳؍ کی منظوری دے دی ہے، جس پر گزشتہ اجلاس میں غور مؤخر کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قانونی دفعہ کے اس حصہ کے تحت آبنائے ہرمز میں فراہم کی جانے والی جہاز رانی اور ماحولیاتی خدمات، خصوصی حالات میں ایندھن کی فراہمی، انشورنس، سیکوریٹی اور دیگر خدمات کے عوض فیس وصول کی جا سکے گی۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز: ۸۰؍ فیصد بحری ٹریفک غائب، امریکہ نے ایران کی حکمتِ عملی الٹ دی

قشقاوی کے مطابق یہ فیس ان ممالک سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں سے وصول کی جائے گی جنہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل ہوگی۔ ادائیگی ایرانی ریال یا تہران کی جانب سے مقرر کردہ کسی دوسری کرنسی میں کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون میں آبنائے ہرمز سے متصل ممالک کے حقوق کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ قانون بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے تحت سمندری جہاز رانی کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساحلی ریاستوں کی سلامتی اور خودمختاری کے احترام اور ان کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز فروری میں شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ایک بڑا تنازع بنا ہوا ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت جاری تھی۔ یہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی برآمد کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ تاہم اب ایران اس آبنائے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے اور گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے پر اصرار کر رہا ہے، جسے امریکہ مسترد کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کنیڈا کا امریکہ پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان، تجارتی جنگ میں شدت

قانون سازی کا عمل

ایران میں اس تجویز کو قانون بننے کے لیے پہلے اس قانونی دفعہ کے حصوں پر متعلقہ پارلیمانی کمیٹی میں بحث اور منظوری ضروری ہے۔ اس کے بعد کمیٹی کی رپورٹ مکمل پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہے، جہاں ارکان ہر قانونی دفعہ کے ہر حصوں اور پھر پورے بل پر ووٹنگ کرتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ بل منظور کر لے تو اسے گارڈین کونسل کے پاس بھیجا جاتا ہے، جو اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ آیا یہ قانون آئین اور اسلامی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر گارڈین کونسل کو کوئی اعتراض ہو تو بل دوبارہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر اختلاف برقرار رہے تو ایکسپیڈیئنسی کونسل (مجمع تشخیص مصلحت نظام) مداخلت کر سکتی ہے۔ گارڈین کونسل کی منظوری کے بعد قانون صدر کی جانب سے نافذ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ باضابطہ طور پر قابلِ عمل ہو جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK