Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی کمیشن:ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں پر ظلم کا الزام، پابندیوں کا مطالبہ

Updated: May 12, 2026, 10:09 PM IST | Washington

امریکہ میں مقیم انسانی حقوق کے کارکن راقب حمید نائیک نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے سامنے گواہی دیتے ہوئے ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر، جبری بے دخلیوں اور مسماری مہمات پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی لیڈروں اور ہندو قوم پرست تنظیموں کے خلاف عالمی میگنیٹسکی پابندیوں کا مطالبہ کیا۔

Raqib Hameed Naik. Photo: X
راقب نائک۔ تصویر: ایکس

امریکہ میں مقیم انسانی حقوق کے محقق راقب حمید نائیک نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے سامنے ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور پسماندہ ذاتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مبینہ ظلم و ستم، نفرت انگیز مہمات اور ریاستی سطح پر امتیازی پالیسیوں کے حوالے سے تفصیلی گواہی دی ہے۔ اپنی گواہی میں نائیک نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ’’اعلیٰ سیاسی سرپرستی‘‘ حاصل ہے اور یہ مختلف ریاستی اداروں اور ہندو قوم پرست تنظیموں کے نیٹ ورک کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منظم جبر ’’بیوروکریسی میں سرایت شدہ، قانون میں ضابطہ بند، مکمل استثنیٰ سے محفوظ اور مسلسل زیادہ بے رحم‘‘ ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن:راقب نائک کی آر ایس ایس، بجرنگ دل، وی ایچ پی پر امریکی پابندیوں کی مانگ

نائیک، جو Central SOC کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں، نے اپنی گواہی میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما سمیت کئی لیڈروں کے بیانات اور پالیسیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی سخت گیر ہندو قوم پرستانہ سیاست اور مسلم مخالف بیانات کے لیے مشہور ہیں، جبکہ آسام میں ہیمنت بسوا شرما کی حکومت پر بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی بے دخلی اور املاک کی مسماری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ نائیک نے کمیشن کو بتایا کہ آسام میں ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان کم از کم ۳۳؍ جبری بے دخلی کارروائیاں کی گئیں، جن میں ۲۲؍ ہزار سے زائد مکانات اور ڈھانچے مسمار کیے گئے اور تقریباً ۳؍ لاکھ خاندان متاثر ہوئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی اندرونی بے گھر آبادی والے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔‘‘ گواہی میں یہ بھی کہا گیا کہ ۲۰۲۵ء میں ۲۱؍ ہندوستانی ریاستوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ۱۳۱۸؍  واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو ۲۰۲۳ء کے مقابلے میں ۹۷؍ فیصد زیادہ ہیں۔نائیک نے دعویٰ کیا کہ عوامی اجتماعات میں اقلیتوں کو ’’دیمک‘‘، ’’سانپ‘‘، ’’کیڑے‘‘ اور ’’سور‘‘ جیسے الفاظ سے پکارا گیا، جبکہ بعض ہندو انتہا پسند گروہوں کو تلواروں، چاقوؤں اور آتشیں اسلحے کی تربیت دی گئی۔
انہوں نے شہریت ترمیمی قانون (CAA)، قومی رجسٹر برائے شہریات (NRC) اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ ان اقدامات کے ذریعے لاکھوں مسلم ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ نائیک نے اپنی گواہی میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ مسلمانوں کی املاک کی مسماری میں مختلف تعمیراتی کمپنیوں کی مشینری استعمال ہو رہی ہے، جن میں JCB، Caterpillar، Tata، Mahindra اور Hyundai شامل ہیں۔ انہوں نے امریکی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ان کمپنیوں کے کردار کی تحقیقات کی جائیں اور انہیں انسانی حقوق سے متعلق ’’ڈیو ڈیلیجنس‘‘ اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: بھوج شالہ-کمال مولا مسجد تنازع میں مسلم فریق نے اے ایس آئی کی تحقیقات کو چیلنج کیا

گواہی میں گئو رکشکوں کے گروہوں کا بھی ذکر کیا گیا، جن کے بارے میں نائیک نے کہا کہ وہ مختلف ریاستوں میں مویشی لے جانے والے مسلم ڈرائیوروں پر حملے کرتے ہیں، اور ان حملوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر پھیلائی جاتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برسوں میں ایسے ۴؍ ہزار سے زیادہ ویڈیوز دستاویزی شکل میں جمع کیے گئے ہیں۔ عیسائیوں کے حوالے سے نائیک نے کہا کہ انہیں گرجا گھروں کی بندش، پادریوں پر حملوں، تدفین کے حقوق سے محرومی اور جبری تبدیلی مذہب کے الزامات کا سامنا ہے۔ انہوں نے United Christian Forum کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ۲۰۱۴ء کے مقابلے میں ۲۰۲۴ء تک عیسائیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں ۵۵۵؍  فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
نائیک نے اپنی گواہی میں فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی الزام لگایا کہ وہ نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کو پھیلانے میں ’’مرکزی انفراسٹرکچر‘‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ہندوستانی حکومت بیرونِ ملک ناقدین اور کارکنوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ایکس کے ذریعے ایک سرکاری نوٹس موصول ہوا جس میں ان کے جی پی ایس لوکیشن ڈیٹا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ آخر میں نائیک نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہندوستان کو ’’خاص تشویش والے ملک‘‘ (CPC) کے طور پر نامزد کیا جائے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS)، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں اور بعض ہندوستانی سیاست دانوں کے خلاف عالمی میگنیٹسکی پابندیاں عائد کی جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK