Updated: May 12, 2026, 10:09 PM IST
| New york
جیفری ایپسٹین سے متعلق امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ تقریباً ۳۵؍ لاکھ صفحات پر مشتمل فائلوں کو نیویارک میں ایک خصوصی نمائش میں عوامی توجہ کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ’’ڈونالڈ جے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین میموریل ریڈنگ روم‘‘ نامی اس پاپ اپ نمائش میں ہزاروں جلدوں پر مشتمل دستاویزات رکھی گئی ہیں، جن میں ایپسٹین کے جرائم، طاقتور شخصیات سے تعلقات اور امریکی نظامِ انصاف کے کردار پر سوالات شامل ہیں۔
بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی لاکھوں صفحات پر مشتمل فائلوں کو اب نیویارک میں ایک منفرد عوامی نمائش کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر امریکی سیاست، طاقتور شخصیات اور شفافیت سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار پرائمری فیکٹس کی جانب سے قائم کردہ اس عارضی نمائش کو ’’ڈونالڈ جے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین میموریل ریڈنگ روم‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ نمائش میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً ۳۵؍ لاکھ صفحات کی دستاویزات کو ۳؍ ہزار ۴۳۷؍ جلدوں میں ترتیب دے کر رکھا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ مجموعہ تقریباً ۱۷؍ ہزار پاؤنڈ وزنی ہے اور اسے تیار کرنے میں کئی ہفتے لگے۔
یہ بھی پڑھئے : ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کررہے ہیں: رپورٹ؛ تہران بھی ’سبق سکھانے‘ کیلئے تیار
یہ پاپ اپ لائبریری نیویارک کے علاقے ٹریبیکا میں قائم کی گئی ہے اور ۲۱؍ مئی تک محدود مدت کے لیے کھلی رہے گی۔ سیکوریٹی وجوہات کی بنا پر اس کا مکمل پتہ صرف رجسٹرڈ افراد کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ نمائش میں صرف دستاویزات ہی نہیں بلکہ ٹرمپ اور ایپسٹین کے تعلقات پر مبنی ایک تفصیلی ٹائم لائن بھی شامل کی گئی ہے، جس میں ان کی دہائیوں پر محیط دوستی، سماجی تقریبات اور بعد میں تعلقات کی خرابی کا ذکر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ متعدد بار ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کر چکے ہیں، تاہم ایپسٹین فائلز میں ان کا نام کئی مرتبہ سامنے آنے کے بعد سیاسی بحث میں اضافہ ہوا ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس نمائش کا مقصد صرف سنسنی پھیلانا نہیں بلکہ ’’عوامی احتساب‘‘ کو فروغ دینا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پرائمری فیکٹس سے وابستہ ڈیوڈ گیریٹ کے مطابق، ’’جب سچائی کو لاکھوں صفحات کی صورت میں آپ کے سامنے رکھا جائے تو اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘ حالیہ دنوں میں اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب نیویارک کی ایک عدالت نے ایپسٹین سے منسوب ایک مبینہ ’’خودکشی نوٹ‘‘ بھی جاری کیا۔ اس نوٹ کو ایپسٹین کے سابق سیل میٹ نکولس ٹارٹاگلیون سے منسلک عدالتی کارروائی کے دوران منظر عام پر لایا گیا۔
ماہرینِ نے ابتدائی طور پر کہا ہے کہ اس نوٹ کی لکھائی ایپسٹین سے منسوب دیگر تحریروں سے مشابہت رکھتی ہے، اگرچہ اس کی مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب ایپسٹین کے بھائی نے اس نوٹ کی صداقت پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے ’’جعلی‘‘ قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے جنوری ۲۰۲۶ء میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت ۳۵؍ لاکھ سے زائد صفحات، ۲؍ ہزار ویڈیوز اور تقریباً ایک لاکھ ۸۰؍ ہزار تصاویر جاری کی ہیں۔ تاہم کئی قانون سازوں اور ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اب بھی لاکھوں صفحات عوام سے پوشیدہ ہیں۔
یہ معاملہ صرف امریکہ تک محدود نہیں رہا بلکہ حالیہ مہینوں میں یورپ اور دیگر ممالک میں بھی کئی تحقیقات، استعفوں اور سیاسی تنازعات کا سبب بن چکا ہے۔ نمائش کے منتظمین کے مطابق، یہ ریڈنگ روم متاثرین کی یاد اور انصاف کے مطالبے کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے، جبکہ ناقدین اسے امریکی سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور طاقتور حلقوں کے احتساب کی نئی علامت قرار دے رہے ہیں۔