• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران : احتجاج میں کمی ، حکومت حامی عوام سڑکوں پراُترے

Updated: January 13, 2026, 12:01 AM IST | Tehran

امریکہ اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے، تہران کا مظاہرین سے گفتگو مگر ’فسادیوں‘ کونہ بخشنے کا اعلان، تشدد میں جاں بحق ہونےوالوں کیلئے ۳؍ دن کاسوگ ، انٹرنیٹ جزوی طور پر بحال

Pro-government demonstrations took place in Tehran`s Revolution Square, with similar demonstrations held in all districts.
تہران کے انقلاب اسکوائر پر حکومت حامی عوام کا مظاہرہ،ایسے مظاہرے تمام اضلاع میں منعقد کئے گئے۔

 ایران جو ۲۸؍ دسمبر سے عوامی مظاہروں کا سامنا کررہا ہے، میں حالات بہتر ہونے لگے ہیں۔ اتوار سے مظاہروں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے   ۔اس بیچ  حکومت حامی عوام سڑکوں پر اُتر گئے ہیں ۔ پیر کو ایران کی سڑکوں پر ’’امریکہ مردہ باد‘‘ اور ’’ اسرائیل مردہ باد‘‘ کے فلک شگاف نعرے بلند کئے گئے۔ اُدھر حکومت نے  ایک بار پھر مظاہرین سے گفتگو اور ان کی شکایات کو سننےمگر ’’فسادیوں ‘‘کو کسی بھی صورت میں نہ بخشنے کا اپنا موقف دہرایا ہے۔   ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژائی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مظاہروں کو بیرونی  طاقتیں ہوا دے رہی ہیں، ’’فسادیوں‘‘ کو انصاف  کے کٹہرے میں کھڑا کرنے اورانہیں سخت سے سخت سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔ 
مظاہروں کی شدت میں کمی 
 ایسے وقت میں جبکہ بین الاقوامی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کررہاہے کہ پورا ایران  حکومت  کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے اور ملک کا تختہ پلٹ دینا چاہتا ہے،  الجزیرہ   کے نمائندہ نے  تہران سے خبر دی ہے کہ ایران میں مظاہروں میں  اتوار سے ہی کمی آنی شروع ہوگئی تھی۔انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے ’’کریٹیکل تھریٹس پروجیکٹ‘‘ کے حوالے سے دی گئی اس خبر میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں  کے  مقابلے میں ۱۱؍ جنوری کو نسبتاً کم مظاہرے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ اس کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش اور  غیر قانونی طور پر نیٹ کی دستیابی کیلئے ایلون مسک  کے’اسٹارلنک‘ کے استعمال کو ناممکن بنا دینے کی وجہ سے تہران بڑی حدتک حالات کو قابو میں لانے میں  کامیاب ہوگیاہے۔ اس  بیچ انٹرنیٹ بھی جزوی طور پر بحال کیاگیاہے۔
عوام حکومت کی حمایت میں سڑکوں پر اترے
 مظاہروں کے برخلاف  ایران کی سڑکوں پر اب  حکومت کی حمایت میں آواز بلند ہورہی ہے  ۔ تہران   سے الجزیرہ کے نمائندہ توحید اسعدی نے خبر دی ہے کہ ’’گزشتہ روز تہران میں کی گئی اپیل کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترے ہیں۔ پیر کو تہران کے مشہور’’انقلاب اسکوائر‘‘ پر دسیوں  ہزار افراد نے احتجاج کیا۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی’تسنیم‘ کے مطابق یہ لوگ  فساد برپا کرنے  والے اُن مظاہرین  کے خلاف احتجاج کررہے تھےجنہوں نے عوامی املاک کی  توڑ پھوڑ کی، مساجد کی بے حرمتی  کے مرتکب ہوئے،  قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کئے ، فوج اور سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا اور فساد جیسے حالات پیدا کئے۔  حکومت کی حمایت میں اس طرح کے مظاہرے  تہران کے علاوہ تمام اضلاع کے ہیڈکوارٹرس میں  منعقد کئے جارہے ہیں۔
 جاں بحق افراد کیلئے۳؍ دنوں کا سوگ
 فساد نما مظاہروں میں کم از کم ۱۰۰؍ سیکوریٹی اہلکار  اور متعدد عام شہری مارے گئے ہیں۔ ایرانی حکومت نے جاں بحق ہونے والے ان افراد کیلئے سہ روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہاگیا ہے کہ ’’ایرانی عوام نے داعش کے باقیات کی حیثیت رکھنےوالے مجرم عناصر  کے ہاتھوں  اپنے ساتھی شہریوں، رضاکاروں اور پولیس فورس کے جوانوں  کے خلاف کئے جانے والےوحشیانہ تشددکو دیکھا ہے جس میں بہت سے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ‘‘
فسادیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی 
 ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل  کے سیکریٹری علی لاریجانی نے سرکاری املاک کو نقصان  پہنچانے اور عام شہریوں نیز سیکوریٹی حکام کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے  کہ مظاہرین اور فسادیوں کے درمیان فرق ضروری ہے۔ انہوں  نے کہا کہ کچھ لوگوں نے  معاشی پریشانیوںکے خلاف جائز احتجاج کیا تھا مگر تخریبی عناصر اس میں شامل ہوگئے اور انہوں  نے ان جائز مطالبات سے  توجہ ہٹا کر تشدد بھڑکانا شروع کردیا۔ ا یرانی لیڈران  نے اعلان کیا ہے کہ مظاہرین کے جائز مطالبات کو سنا جائےگامگر فساد برپا کرنےوالوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا ہوگا۔
فسادیوں کو بیرون ملک ٹریننگ دی گئی
   صدر مسعود پیزشکیان  نے مظاہروں  میں   تشدد کو بیرونی عناصر کی کارستانی قرار دیا اورکہا کہ وہ دشمن جو جون ۲۰۲۵ء میں ۱۲؍ دن کی جنگ کے دوران  افراتفری نہیں  پھیلا سکے، اب معاشی مسائل کا فائدہ اٹھا کر حالات کو بگاڑنا چاہتے ہیں۔  مظاہرین  کے حوالے سے انہوں  نے کہا کہ ’’ہم نے ان کے مسائل کو ہر ممکن طریقے سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK