Updated: March 03, 2026, 9:03 PM IST
| Dubai
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں ۱۱؍ ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، تاہم دبئی سے کمرشیل فلائٹ آپریشن بتدریج بحال ہو رہے ہیں۔ اسی دوران خطے سے نکلنے کیلئے امیر مسافر نجی جیٹ طیاروں پر بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں، جبکہ کئی افراد یورپ جانے کیلئے سعودی عرب اور عمان تک سڑک کے ذریعے سفر کر رہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں ۱۱؍ ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، تاہم دبئی سے کمرشیل فلائٹ آپریشن بتدریج بحال ہو رہے ہیں۔ اسی دوران خطے سے نکلنے کیلئے امیر مسافر نجی جیٹ طیاروں پر بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں، جبکہ کئی افراد یورپ جانے کیلئے سعودی عرب اور عمان تک سڑک کے ذریعے سفر کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اب دبئی ایئرپورٹ سے کمرشیل پروازیں مرحلہ وار بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، لیکن صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
نجی جیٹ کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ
رپورٹس کے مطابق، خطے سے فوری انخلا کے خواہشمند امیر افراد نجی جیٹ چارٹر کرنے کیلئے ۳؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار امریکی ڈالر (تقریباً ۲ء۳؍ کروڑ روپے) تک ادا کر رہے ہیں۔ نجی طیاروں کی مانگ میں اچانک اضافے کے باعث قیمتیں تقریباً تین گنا بڑھ چکی ہیں۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، مسقط میں قائم نجی بروکریج جیٹ وی آئی پی استنبول جانے والی پرواز کیلئے تقریباً ۸۵؍ ہزار یورو وصول کر رہا ہے، جبکہ ماسکو کیلئے نجی چارٹر پر فی نشست تقریباً ۲۰؍ ہزار یورو میں فروخت ہو رہی ہے۔ کئی افراد عمان کے دارالحکومت مسقط تک ساڑھے چار گھنٹے کی ڈرائیو کر کے جا رہے ہیں، جہاں مسقط ایئرپورٹ بھی آپریشنل ہے، اگرچہ تاخیر کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا دوٹوک اعلان: امریکہ سے مذاکرات نہیں، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
سعودی عرب تک ۱۰؍ گھنٹے کا سفر
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کچھ ہائی نیٹ ورتھ افراد یورپ جانے کیلئے پہلے ریاض تک تقریباً ۱۰؍ گھنٹے کا زمینی سفر کر رہے ہیں، جہاں سے وہ نجی جیٹ کے ذریعے روانہ ہو سکیں۔ بڑھتی ہوئی طلب اور محدود دستیابی کے باعث کئی نجی آپریٹرز انشورنس اور سیکوریٹی خدشات کے پیش نظر درخواستیں مسترد بھی کر رہے ہیں۔ سیمفور کے مطابق، نجی سیکوریٹی کمپنیاں عالمی مالیاتی اداروں کے ایگزیکٹوز اور کاروباری شخصیات کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کیلئے ایس یو ویز کا بندوبست کر رہی ہیں۔
یوکے میں قائم سیکوریٹی فرم الما رسک کے ڈائریکٹر ایان میکول نے کہا کہ ’’ہم سے خاندانوں، افراد اور کارپوریشنز نے رابطہ کیا ہے جو یا تو سیکوریٹی خدشات یا کاروباری وجوہات کی بنا پر خطے سے نکلنا چاہتے ہیں۔‘‘ دبئی، جو طویل عرصے سے ارب پتیوں اور عالمی انفلوئنسرز کیلئے محفوظ اور ٹیکس فری طرز زندگی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، اب غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔
کروز جہازوں میں پھنسے سیاح
ایرانی ڈرون حملوں کے بعد خطے کی کئی بندرگاہوں پر پابندیاں عائد ہو گئیں۔ ہزاروں مغربی سیاح خلیجی ساحل کے قریب کروز جہازوں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ زائد بندرگاہ کے قریب لنگر انداز کروز لائنر مین شیف ۴؍ کے مسافروں نے بندرگاہ کے قریب دھماکوں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے کیبنز میں رہیں اور بالکونیوں سے باہر نہ آئیں۔
یہ بھی پرھئے: امریکی ٹھکانوں پرایرانی حملوں کے سبب مشرق وسطیٰ میں فضائی خدمات متاثر
غیر یقینی مستقبل
اگرچہ دبئی اور دیگر خلیجی ہوائی اڈوں پر کمرشیل پروازیں بتدریج بحال ہو رہی ہیں، لیکن فضائی حدود کی بندش اور سیکوریٹی خدشات کے باعث صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔نجی جیٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور زمینی راستوں کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں موجود اعلیٰ مالیت والے افراد کسی بھی ممکنہ بگڑتی صورتحال سے قبل فوری انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں۔