Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کی جنگ بندی کی تجویز ایران نے ٹھکرادی

Updated: March 26, 2026, 12:32 AM IST | Tehran

ٹرمپ نے پاکستان کے توسط سے ۱۵؍ نکاتی تجویز بھیجی ،ایران نے کہا کہ ’’ امریکہ اپنی شکست کو جنگ بندی کا نام دینا چاہتا ہے ‘‘، اسی دوران ابراہم لنکن پر کروز میزائل داغ دیا

Despite the American and Israeli attacks, ordinary citizens are still waving Iranian flags on the streets of Tehran and showing enthusiasm.
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود تہران کی سڑکوں پر عام شہری اسی طرح ایرانی پرچم لہراکر جوش و خروش کا مظاہرہ کررہے ہیں

ایران،امریکہ اور اسرائیل  کے درمیان جاری جنگ کے خاتمہ کیلئے کوششیں ہورہی ہیںلیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کی جوانمردی اور اس کی شجاعت نے امریکہ کے دانت کھٹے کردئیے ہیں جس کی وجہ سے اسے مذاکرات کی اپیلیں کرنی پڑ رہی ہیں۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کیلئے ۱۵؍ نکاتی منصوبہ تیار کر کے پاکستان کے ذریعے تہران کو پہنچا دیا ہے، تاہم ایران نے امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا بات چیت کی سختی سے تردید کر دی ہے اور یہ ۱۵؍ نکاتی تجویز ٹھکرادی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے تیار کردہ اس منصوبے میں ایک ماہ کی ممکنہ جنگ بندی کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ دونوں فریقین کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔
امریکہ کی تجاویز کیا ہیں؟ 
  ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کوپاکستان کے توسط سے امریکی صدر کی تجویز موصول ہو چکی ہے، تاہم اس کی تفصیلات باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بڑے جوہری مراکز کو ختم کرے، یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو معطل کرے۔ مزید برآں ایران سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرے اور آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کیلئے مکمل طور پرکھول دے۔اس کے بدلے میں امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی و جوہری پابندیاں ختم کرنے اور سویلین نیوکلیئر پروگرام میں تعاون کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس تمام پیش رفت میں پڑوسی ملک پاکستان کا کردار انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ایک ثالث کے طور پر امریکی پیغام ایران تک پہنچایا ہے۔  امکان ہے کہ اگلے چند روز میں اسلام آباد میں ہی امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان بات چیت ہو لیکن یہ ابھی تک طےنہیں ہے۔ 
ایرانی سپریم لیڈر نے کیا کہا ؟
 ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے سعید جلیلی نے امریکی صدر کی پیشکش کو دھوکہ قرار دیا اور کہا دشمن مکرو فریب سے کام جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو طاقتیں ماضی میں ایران کو تقسیم کرنے اور یہاں کی حکومت بدلنے کی باتیں کرتی تھیں، آج وہ مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کا تلخ تجربہ رہا ہےکیوں کہ ماضی میں مذاکرات کے دوران بھی حملے  کئے گئے جس سے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جب ایران پر مسلسل دباؤ اور حملے جاری ہیں، کسی بھی سفارتی عمل یا ثالثی کی بات قابلِ اعتبار نہیں۔ایرانی قیادت کے دیگر نمائندوں نے بھی امریکی پیشکش کو مسترد کردیا۔ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایران کے سخت ردعمل کے بعد فوری طور پر کسی پیش رفت کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں  
ابراہم لنکن پر حملہ 
  جنگ بندی کی خبروں درمیان ہی ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن  پر کروز میزائل داغے ہیں۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق کروز میزائل امریکی جنگی جہاز کی سمت فائر  کئے گئے  تاہم اس کارروائی کے نتیجے میں کسی نقصان یا ہدف کو لگنے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK