Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کے باعث جنوبی ایشیا میں ایندھن کا بحران؛ آسیان ممالک میں ہنگامی اقدامات کا نفاذ

Updated: March 25, 2026, 10:04 PM IST | Jakarta

خام تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ایشیائی ممالک ایندھن کی بچت کے اقدامات، راشن بندی اور قلت و بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نمٹنے کیلئے معاشی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے دوران، آبنائے ہرمز سے تیل سے لدے جہازوں کی آمد و رفت بند ہونے کے بعد پوری دنیا میں ایندھن کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ایشیائی معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تیل درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک خصوصاً آسیان ممالک بڑی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، جس کے باعث حکومتیں ایندھن کی بچت کے اقدامات، راشن بندی اور قلت و بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نمٹنے کیلئے معاشی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔

فلپائن، جس کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً ۹۸ فیصد خلیجی سپلائی پر منحصر ہے، نے ۲۴ مارچ کو توانائی کی قومی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور ایندھن کی سپلائی کو درپیش ”فوری خطرے“ سے خبردار کیا ہے۔ ملک میں تقریباً ۴۵ دن کے ایندھن کے ذخائر رہ گئے ہیں، جبکہ مقامی بازاروں میں گیس کی قیمتیں دوگنی ہوچکی ہیں۔ فلپائنی حکام کوئلے کی پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور ایندھن بچانے کیلئے پروازوں میں کمی اور ہفتے میں چار دن کام کے منصوبے کے نفاذ پر غور کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا نیا اتحاد پلان، ہرمز محدود کھولا، خطے میں طاقت کا نیا توازن

تھائی لینڈ، جو اپنی ضرورت کا تقریباً ۶۰ فیصد تیل درآمد کرتا ہے، نے ایندھن کی مقامی سپلائی کو محفوظ بنانے کیلئے پیٹرولیم کی برآمدات معطل کر دی ہیں۔ تقریباً دو ماہ کے ذخائر کے ساتھ، حکومت نے توانائی کی بچت کے اقدامات متعارف کرائے ہیں جن میں ایئر کنڈیشننگ کا محدود استعمال، کار پولنگ کی حوصلہ افزائی، لفٹ کے استعمال میں کمی اور توانائی کی طلب گھٹانے کیلئے دفاتر میں ہلکے لباس کے استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔

سنگاپور، جو ریفائننگ کا ایک بڑا عالمی مرکز ہے، توانائی کی درآمدات پر مکمل انحصار کرتا ہے اور اس کا ۷۰ فیصد خام تیل خلیج سے آتا ہے۔ ملک میں ذخائر اور دیگر ذرائع کی وجہ سے مقامی سپلائی مستحکم ہے، لیکن ریفائننگ مارجن اور تجارتی بہاؤ پر سنگاپور دباؤ کا سامنا کررہا ہے، جس کی وجہ سے طلب کے انتظام کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

ویتنام، جو اپنی ضرورت کا ۸۸ فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، کے پاس ۲۰ دن سے بھی کم عرصے کے ایندھن کے ذخائر رہ گئے ہیں۔ جنوبی ایشیائی ملک نے اپنے ایندھن کی قیمت مستحکم کرنے والے فنڈ کو فعال کر دیا ہے اور جاپان و جنوبی کوریا سے متبادل سپلائرز تلاش کر رہا ہے۔ وہاں صنعتی پیداوار اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امدادی قافلہ کیوبا پہنچا

کمبوڈیا بھی ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں ایل پی جی کی قیمتوں میں ۵۰ فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور پنوم پن میں ایندھن کے مراکز پر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ انڈونیشیا میں ایندھن کی مقامی پیداوار کی وجہ سے حالات زیادہ خراب نہیں ہوئے ہیں لیکن سبسڈی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان وہ اپنے B50 بائیو ڈیزل پروگرام میں تیزی لا رہا ہے۔ لاؤس درآمدی اخراجات میں اضافے سے نبردآزما ہے جبکہ میانمار میں قلت کے باعث ایندھن کی راشن بندی اور گاڑیوں کیلئے طاق و جفت قوانین نافذ کر دیئے گئے ہیں۔

اس دوران ایندھن برآمد کرنے والے ممالک برونئی اور ملائیشیا، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ برونئی، جو روزانہ تقریباً ۸۴ ہزار بیرل کی پیداوار کرتا ہے، کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح ملائیشیا کی ایل این جی برآمدات اسے سہارا دے رہی ہیں، حالانکہ ریفائننگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’خلیجی ممالک کے انتباہ نے ٹرمپ کو مذاکرات پرمجبور کیا‘‘

جنوبی ایشیا میں، پاکستان نے ایندھن کے کم ہوتے ذخائر کے درمیان ہفتے میں چار دن کام، تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور ایندھن کے الاؤنس میں کمی جیسے اقدامات کئے ہیں۔ بنگلہ دیش ایندھن کی راشن بندی کر رہا ہے۔ سری لنکا نے ایندھن کے بحران سے نمٹنے کیلئے سنیچر کو سرکاری تعطیلات اور فیول پاس نافذ کئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK