Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ نے ایران اور آبنائے ہرمز پر ’کنٹرول‘ کا دعویٰ کیا، امریکیوں کی معاشی تکالیف کو نظر انداز کیا

Updated: May 13, 2026, 4:05 PM IST | Washington

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار ہے۔ انہوں نے تہران کو اس کے ایٹمی پروگرام پر خبردار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ”طویل گفتگو“ کریں گے، جس میں تجارتی مسائل کے ساتھ ساتھ ایران کا موضوع نمایاں رہنے کی توقع ہے۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار ہے، حالانکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ چین روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ”ایران کافی حد تک قابو میں ہے۔“ انہوں نے تہران کو اس کے ایٹمی پروگرام پر خبردار کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”یا تو ہم کوئی معاہدہ کریں گے یا پھر انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔ کسی نہ کسی طرح جیت ہماری ہی ہوگی۔“ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ”طویل گفتگو“ کریں گے، جس میں تجارتی مسائل کے ساتھ ساتھ ایران کا موضوع نمایاں رہنے کی توقع ہے۔

کویت نے ایران پر حملے کا الزام عائد کیا

ٹرمپ کا یہ بیان، کویت کے ایران پر لگائے گئے الزامات کے بعد سامنے آیا کہ تہران نے رواں ماہ کے شروع میں کویت کے بوبیان جزیرے (Bubiyan Island) پر حملے کی کوشش کی تھی، جہاں چین کے تعاون سے ’مبارک الکبیر بندرگاہ‘ تعمیر کی جا رہی ہے۔ کویت کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی ایک ٹیم نے یکم مئی کو جزیرے میں دراندازی کی کوشش کی۔ چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دو فرار ہو گئے۔ ایران نے فوری طور پر اس الزام پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔ دریں اثنا، اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے مسلسل علاقائی کشیدگی کے درمیان متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ’آئرن ڈوم‘ فضائی دفاعی نظام اور اہلکار تعینات کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا انتباہ، دوبارہ حملہ ہوا تو۹۰؍ فیصد یورینیم افزودگی کی جائے گی

ہیگسیتھ کا ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلسل رکاوٹوں کے باوجود امریکہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”حتمی طور پر آبنائے ہرمز پر ہمارا کنٹرول ہے، کیونکہ وہاں سے کوئی بھی ہماری اجازت کے بغیر گزر نہیں پا رہا ہے۔“ پینٹاگون کے اعلیٰ بجٹ اہلکار نے قانون سازوں کو بتایا کہ جنگ کے اخراجات بڑھ کر تقریباً ۲۹ بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو دو ہفتے پہلے ۲۵ بلین ڈالر تھے۔

امریکیوں کی معاشی تکلیف ایران مذاکرات کا حصہ نہیں: ٹرمپ

ٹرمپ نے منگل کو بیان دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران جنگ کے عام امریکیوں پر پڑنے والے معاشی اثرات پر غور نہیں کیا جارہا ہے۔ جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ مذاکرات کے دوران امریکیوں کی مالی صورتحال ان کے فیصلوں پر کتنا اثر انداز ہوتی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ”ذرہ برابر بھی نہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”جب میں ایران کے بارے میں بات کر رہا ہوتا ہوں تو صرف ایک ہی چیز اہمیت رکھتی ہے: ان کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوسکتے۔“

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے سبب امریکیوں کو توانائی کی ۳۷؍ بلین ڈالر اضافی قیمت چکانی پڑی: تحقیق

براؤن یونیورسٹی کے واٹسن اسکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس جنگ کی وجہ سے امریکیوں کو توانائی کے اضافی اخراجات کی مد میں تقریباً ۱ء۳۸ بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ٹریکر کے مطابق، پیٹرولیم کے اضافی اخراجات کا تخمینہ ۸۶ء۲۰ بلین ڈالر اور ڈیزل سے متعلق اخراجات ۲ء۱۷ بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے بعد سے اوسط امریکی گھرانہ پیٹرول اور ڈیزل پر ماہانہ ۵۶ء۲۹۰ ڈالر زائد ادا کر رہا ہے۔

پاکستان اور عراق نے ایران کے ساتھ توانائی کی ترسیل کے معاہدے کرلئے

رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور عراق نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل جاری رکھنے کیلئے الگ الگ انتظامات کرلئے ہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے قطری گیس لے جانے والے دو ایل این جی ٹینکرز کی گزرگاہ کو یقینی بنایا، جبکہ عراق نے دو خام تیل بردار جہازوں (جن میں سے ہر ایک میں تقریباً ۲۰ لاکھ بیرل تیل تھا) کی محفوظ ترسیل کا انتظام کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اب عراق سے مطالبہ کر رہا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے ہر ٹینکر کی تفصیلی کاغذی کارروائی جمع کرائی جائے، جس میں ملکیت، سامان اور منزل کی معلومات شامل ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب ۴۵؍ ملین افراد کا غذائی تحفظ خطرے میں: اقوام متحدہ

ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ان رپورٹس کے بعد پاکستان کو نشانہ بنایا جن میں امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ ایران کے فوجی طیارے پاکستانی اڈوں پر تعینات ہوگے۔ گراہم نے کہا کہ ”میں پاکستان پر رتی برابر بھی بھروسہ نہیں کرتا۔“ دوسری طرف، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے زور دیا ہے کہ تہران کی ۱۴ نکاتی تجویز میں بیان کردہ حقوق کو تسلیم کرنے کے سوا ”کوئی متبادل“ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK