• Mon, 05 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کی احتجاجی مظاہروں میں مداخلت پر جامع ردعمل کی دھمکی

Updated: January 04, 2026, 7:04 PM IST | Tehran

ایران نے احتجاجی مظاہروں میں مداخلت پر جامع اور سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے، ایران کا بیان ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کی دھمکی کے جواب میں آیا ہے، تاہم ایران کے معاشی حالات کی خرابی کے سبب دکانداروں نے جو غصے کا اظہار کیا تھا، وہ احتجاج کی صورت میں پورے ملک میں بھیل گیاہے۔

Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi. Photo: INN
ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی۔ تصویر: آئی این این

ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعے ملک میں جاری مظاہروں میں مداخلت کی دھمکی  دئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے زور دیا کہ ایسی کسی حملے کا ردعمل ’’فوری، فیصلہ کن اور جامع‘‘ ہوگا۔ جمعے کو ایک بیان میں، ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی دھمکیوں کو علاقے میں تناؤ بڑھانے کی صہیونی ریاست (اسرائیل) کی پالیسی کے مطابق قرار دیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ’’ ٹرمپ کے حالیہ بیان نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی ہے، بلکہ ایرانی شہریوں کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ وینزویلا تنازع: چین کا امریکہ سے صدر مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ

بعد ازاں وزارت نے خبردار کیا کہ ایران کو نشانہ بنانے والا کوئی بھی حملہ علاقے میں انتشار اور عدم استحکام کے امکانات کو بڑھا دے گا، اور ان تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔دریں اثنا، وزیر خارجہ عباس آراغچی نے سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا کہ ایران میں حالیہ شرح مبادلہ کے اتار چڑھاؤ سے متاثرہ افراد پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں، جو کہ ان کا حق ہے،اس کے علاوہ، ہم نے پرتشدد فسادات کے الگ تھلگ واقعات دیکھے ہیں، جن میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ اور پولیس اہلکاروں پر مولوتوف کاکٹیل پھینکنا شامل ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’تمام لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ عوامی املاک پر مجرمانہ حملوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ’’ماضی کی طرح، ایران کی عظیم عوام اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کی پر زورمخالفت کریں گے،‘‘ ساتھ ہی خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج چوکس ہیں اور ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں نشانہ کہاں بنانا ہے، یہ خوب جانتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے مختلف ممالک نے وینزویلا پر حملے کی مذمت کی

واضح رہے کہ تہران کے گرینڈ بازار میں تاجروں نے مقامی کرنسی ایرانی ریال کی غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں تیز گراوٹ اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے خلاف دسمبر کے آخر میں احتجاج شروع کیاتھا، جو بعد میں ملک بھر کے کئی دیگر شہروں میں پھیل گیا۔صدر مسعود پیزشیکیان نے عوامی بے اطمینانی میں اضافے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت موجودہ معاشی مسائل کی ذمہ دار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK