• Wed, 18 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اختلافات کے خاتمے کے لیے امریکہ کو آئندہ ۱۴؍ روز میں ٹھوس فارمولہ پیش کرے گا

Updated: February 18, 2026, 3:08 PM IST | Washington

ایران نے امریکہ کو آئندہ ۲؍ہفتوں میں جوہری معاہدے کے لیے جامع اور تفصیلی تجاویز پیش کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ الجزیرہ نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ فریقین کے درمیان حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے۔

USA And Iran.Photo:INN
امریکہ اور ایران۔ تصویر:آئی این این

ایران نے امریکہ کو آئندہ ۲؍ہفتوں میں جوہری معاہدے کے لیے جامع اور تفصیلی تجاویز پیش کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ الجزیرہ نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ فریقین کے درمیان حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے۔ 
وائٹ ہاؤس عہدیدار باراک راود نے کہا اگرچہ جنیوا میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، لیکن بہت سے پیچیدہ معاملات تاحال حل طلب ہیں، خدشات دور کرنے کے لیے ایران ۲؍  ہفتے میں نئی تجاویز دے گا۔ 
باراک راود نے کہا ایرانی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آئندہ ۱۴؍ روز میں ایک ایسا ٹھوس فارمولا لے کر آئیں گے جو دونوں ممالک کے درمیان موجود بڑے اختلافات کو ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔  دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، جنیوا میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر تین گھنٹے طویل نشست کے بعد عباس عراقچی نے بڑی پیش رفت اور واضح راستے کی نوید سنا دی۔ 
انہوں نے کہا اصولی فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں، جس کی بنیاد پر ممکنہ معاہدے کے متن پر بات چیت آگے بڑھے گی، اس بار گفتگو زیادہ سنجیدہ اور تعمیری رہی، بعض تکنیکی امور پیچیدہ ہیں اس لیے حتمی معاہدے میں وقت لگے گا۔  عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ سفارتی عمل اب مثبت سمت میں داخل ہو چکا ہے اور اگلے دور کی تاریخ تجاویز کے تبادلے کے بعد طے کی جائے گی۔
امریکہ کی ترجیح ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں: جے ڈی وینس
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ترجیح ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں، ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور بعض صورتوں میں تعمیری رہا ہے تاہم تہران صدر ٹرمپ کی جانب سے متعین کردہ بعض ریڈ لائنز پر بات چیت کیلیے تاحال تیار نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:جموں کشمیر پہلی بار فائنل میں، عاقب نبی اور عبدالصمد کی شاندار کارکردگی


غیر ملکی ذرائع ابلاع کے مطابق امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ہم اس پر کام جاری رکھیں گے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ جب چاہیں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سفارتکاری اپنے فطری انجام کو پہنچ چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بات کی نوبت نہیں آئے گی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ صدر پر منحصر ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سپریم کورٹ کی مداخلت، حکومت مسلم شخص پر حملے میں نفرت انگیزجرائم کے الزامات شامل کرنے پر راضی

وینس نے اپنے انٹرویو میں ریڈ لائنز کی وضاحت نہیں کی، اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ نائب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس لحاظ سے بات چیت اچھی رہی۔ طے یہ ہوا ہے کہ دونوں فریق ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام کریں گے اور اس کا تبادلہ ہونے پر مذاکرات کے اگلے مرحلے کو طے کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK