• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلجیم: ۱۰؍ ارب یورو کا بجٹ خسارہ، وزیراعظم نے بادشاہ کو استعفیٰ پیش کیا

Updated: November 02, 2026, 6:01 PM IST | Brussels

بلجیم میں ۲۰۲۷ء کے بجٹ پر کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے بادشاہ فلپ کو اپنی حکومت کا استعفیٰ پیش کردیا ہے۔ پانچ جماعتی اتحاد میں تقریباً ۱۰؍  ارب یورو کے مالیاتی خلا کو پُر کرنے کے طریقے پر اتفاق نہیں ہوسکا؛ ایک طرف اخراجات، خصوصاً صحت کے شعبے میں کٹوتیوں کی تجویز ہے تو دوسری جانب اتحادی جماعتیں زیادہ دولت رکھنے والوں پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

Prime Minister Bart De Wever. Photo: INN
وزیراعظم بارٹ ڈی ویور ۔ تصویر: آئی این این

بلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے پیر، ۲؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو شاہی محل میں بادشاہ فلپ سے ۹۰؍ منٹ سے زائد ملاقات کے دوران اپنی حکومت کا استعفیٰ پیش کیا۔ یہ فیصلہ پانچ جماعتوں پر مشتمل حکمران اتحاد کے ۲۰۲۷ء کے وفاقی بجٹ پر اتفاق کرنے میں ناکامی کے بعد سامنے آیا۔ شاہی محل کے بیان کے مطابق بادشاہ نے استعفے کے معاملے پر فیصلہ فی الحال مؤخر کردیا ہے اور منگل سے پارلیمانی اکثریت میں شامل جماعتوں کے سربراہوں سے مشاورت شروع کریں گے۔ شاہی محل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بادشاہ نے وزیراعظم کے استعفے کے معاملے کو زیرِ غور رکھا ہے۔ اس سیاسی بحران کی بنیادی وجہ ملک کے بجٹ میں تقریباً ۱۰؍ ارب یورو، یعنی ۱۱؍ ارب ڈالر سے زیادہ کا مالیاتی خلا ہے۔ حکومت کئی ہفتوں سے اس رقم کو پورا کرنے کے لیے اخراجات کم کرنے اور ٹیکس آمدنی بڑھانے کے امکانات پر مذاکرات کررہی تھی، لیکن اتحادی جماعتیں اس بات پر متفق نہیں ہوسکیں کہ مالی بوجھ کس طبقے پر ڈالا جائے۔ وزیراعظم ڈی ویور کی جماعت نیو فلیمش الائنس (N-VA) اور فرانسیسی زبان بولنے والے علاقے کی لبرل جماعت ریفارمسٹ موومنٹ (MR) سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں کی حمایت کررہی ہیں، جب کہ ان کے سوشلسٹ اور سینٹرسٹ اتحادی زیادہ دولت رکھنے والے افراد پر ٹیکس بڑھانے کے حق میں ہیں۔ صحت کے شعبے میں اخراجات کم کرنے کی تجاویز بھی اختلافات کا اہم موضوع بن گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ: صدارتی انتخاب میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے واضح برتری حاصل کی

پانچ جماعتوں پر مشتمل اس حکمران اتحاد کو ’ایریزونا کولیشن‘ (Arizona Coalition) کہا جاتا ہے۔ اس میں N-VA، MR، Vooruit، CD&V اور Les Engagés شامل ہیں۔ ان جماعتوں کے درمیان اختلاف محض بجٹ کے اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو کس نوعیت کی معاشی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ N-VA اور MR سرکاری اخراجات کم کرکے مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے پر زور دیتی ہیں، جب کہ Vooruit، CD&V اور Les Engagés زیادہ مالی وسائل رکھنے والوں سے اضافی ٹیکس وصول کرنے کی حمایت کرتی ہیں۔ اس اختلاف نے وزیراعظم کے لیے اتحادی جماعتوں کو ایک مشترکہ منصوبے پر متفق کرنا مشکل بنادیا ہے۔ بلجیم کے مالیاتی مسائل کی سنگینی کا اندازہ سرکاری قرض اور بجٹ خسارے کے اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے۔ یورپی کمیشن کی پیش گوئی کے مطابق ملک کا سرکاری قرض ۲۰۲۶ء میں مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً ۵ء۱۱۰؍ فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جب کہ بجٹ خسارہ ۲ء۵؍ فیصد کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔ یورپی یونین کے مالیاتی ضابطوں کے تحت رکن ممالک کے بجٹ خسارے کی عمومی حد GDP کا ۳؍ فیصد اور سرکاری قرض کی حد ۶۰؍ فیصد مقرر ہے۔ اس اعتبار سے بلجیم دونوں پیمانوں پر مقررہ سطح سے اوپر ہے۔ بڑھتے ہوئے قرض کے ساتھ اس پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے، جس سے حکومت کے لیے مزید قرض لینے اور موجودہ مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان کی اینیمی صنعت آمدنی کے نئے ریکارڈ پر پہنچ گئی

وزیراعظم ڈی ویور نے اس سے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے اخراجات اور قرض کے معاملے پر بروقت اقدامات نہ کیے تو ملک کو ایک ایسے ’انٹرسٹ اسنو بال‘ یعنی سود کے بڑھتے ہوئے برفانی گولے جیسی صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے، جس میں پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے بھی نئے قرض لینے پڑیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ۲۰۲۹ء تک بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے قابلِ عمل مالیاتی منصوبہ تیار کیا جائے اور ۲۰۲۷ء کا بجٹ نئے سال کے آغاز سے پہلے منظور کرلیا جائے۔ مذاکرات میں ناکامی کے باعث یہ ہدف بھی غیر یقینی ہوگیا ہے۔ بلجیم کے آئینی نظام میں وزیراعظم کا استعفیٰ پیش کرنا لازماً حکومت کے فوری خاتمے کے مترادف نہیں۔ بادشاہ استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کرسکتے ہیں یا فیصلہ مؤخر کرکے اتحادی جماعتوں کو اتفاقِ رائے کے لیے مزید وقت دے سکتے ہیں۔ اگر استعفیٰ قبول کرلیا جائے تو حکومت نئی سیاسی تشکیل تک محدود اختیارات کے ساتھ عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرسکتی ہے۔ ایسی صورت میں نئے انتخابات کا راستہ بھی کھل سکتا ہے، تاہم اس مرحلے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ شاہی محل کی جانب سے جماعتی لیڈروں سے مشاورت کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش ابھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: اجرت میں اضافے کے مطالبے پر مزدوروں کا احتجاج پر تشدد، شاہراہیں بند

بلجیم میں بجٹ پر سیاسی تعطل کوئی بالکل نیا واقعہ نہیں۔ ۲۰۲۵ء کے اختتام پر بھی حکومت کو اسی نوعیت کے مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت وزیراعظم نے بادشاہ سے مذاکرات کے لیے ۵۰؍ دن کی مہلت طلب کی تھی، جس کے بعد ۲۴؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو اتحادی جماعتیں تقریباً ۲ء۹؍ ارب یورو کی بچت کے منصوبے پر متفق ہوگئی تھیں۔ موجودہ بحران اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ سال کے سمجھوتے کے باوجود ملک کے قرض اور خسارے میں کمی کے لیے مزید بڑے اقدامات درکار ہیں۔ حکومتی بحران کے دوران بلجیم کو عوامی احتجاج اور ہڑتالوں کا بھی سامنا ہے۔ بجٹ میں ممکنہ کٹوتیوں، سماجی اخراجات اور معاشی پالیسیوں پر اختلافات نے ملک کے سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طلبہ کے احتجاج اور ٹریڈ یونینوں کی جانب سے بار بار قومی سطح کی ہڑتالوں نے بھی حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ادھر مالیاتی منڈیوں میں بلجیم کے سرکاری بانڈز پر شرحِ سود میں اضافے نے قرض کی لاگت سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ اب بادشاہ فلپ کی اتحادی جماعتوں کے لیڈروں سے مشاورت اور وزیراعظم کے ساتھ آئندہ ملاقات پر توجہ مرکوز ہے۔ اگر جماعتیں صحت کے اخراجات میں کٹوتی، اضافی ٹیکس اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے طریقوں پر سمجھوتہ کرلیتی ہیں تو ڈی ویور کی حکومت برقرار رہ سکتی ہے؛ بصورت دیگر استعفے کی منظوری، عبوری حکومت یا نئے انتخابات جیسے آئینی راستے زیرِ غور آسکتے ہیں۔ فی الحال شاہی محل نے استعفے پر حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK