• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: حکومت بنانے کیلئے سابق وزیر اعظم بینیٹ نے گادی آئزنکوٹ کی حمایت کی

Updated: November 02, 2026, 7:06 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت سازی کی کوششیں جاری ہیں۔ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جانب سے گادی آئزنکوٹ کی حمایت نے حکومت بنانے کی ذمہ داری حاصل کرنے کی دوڑ میں ایک نئی پیش رفت پیدا کردی ہے۔

Former Israeli Prime Minister Naftali Bennett. Photo: X
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان کا پارلیمانی اتحاد صدر اسحاق ہرزوگ سے سفارش کرے گا کہ وہ یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ کو اگلی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپیں۔ اس فیصلے سے آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کا پہلا موقع ملنے کے امکانات مضبوط ہوگئے ہیں۔ بینیٹ کی جماعت ’ٹوگیدر‘ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ان کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق، انتخابی مہم کے دوران بینیٹ نے بارہا وعدہ کیا تھا کہ وہ ووٹروں کے فیصلے کا احترام کریں گے اور آئزنکوٹ کی حمایت اسی وعدے کے عین مطابق ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بینیٹ نے اپنے فیصلے سے آئزنکوٹ کو آگاہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ: صدارتی انتخاب میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے واضح برتری حاصل کی

دوسری جانب اسرائیلی چینل ۱۲؍ نے رپورٹ کیا ہے کہ یائر گولان کی قیادت میں ’ڈیموکریٹس‘ پارٹی بھی آئندہ صدارتی مشاورت کے دوران آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپنے کی سفارش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم گولان نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی انتخابات کے بعد اپنی سفارشات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا سیاسی کیمپ حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

۲۶؍ ویں کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے انتخابات گزشتہ منگل کو منعقد ہوئے تھے۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کی جانب سے جمعہ کو باضابطہ طور پر جاری کیے گئے حتمی نتائج کے مطابق، نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے ۲۷؍ نشستیں حاصل کیں، جبکہ آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کو ۲۱؍، بینیٹ کی ٹوگیدر پارٹی کو ۱۲؍ اور گولان کی ڈیموکریٹس پارٹی کو ۸؍ نشستیں ملیں۔ جوائنٹ لسٹ نے ۱۱؍ نشستیں حاصل کیں، جبکہ یونائیٹڈ عرب لسٹ، جسے رام (Ra’am) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ۸؍ نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: اجرت میں اضافے کے مطالبے پر مزدوروں کا احتجاج پر تشدد، شاہراہیں بند

نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد نے مجموعی طور پر ۵۳؍ نشستیں حاصل کیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کو ۴۸؍ اور عرب جماعتوں کو ۱۹؍ نشستیں ملیں۔ ۱۲۰؍ رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کیلئے درکار ۶۱؍ نشستوں کی اکثریت کوئی بھی بڑا سیاسی اتحاد حاصل نہیں کرسکا۔ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح ۷۷ء۹؍ فیصد رہی۔

مرکزی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین جسٹس نوم سولبرگ ۴؍ نومبر کو باضابطہ انتخابی نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کریں گے۔ صدر اسی روز منتخب جماعتوں اور پارلیمانی اتحادوں کے نمائندوں سے مشاورت کا آغاز کریں گے تاکہ حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپنے کیلئے ان کی سفارشات معلوم کی جاسکیں۔ حکومت بنانے کیلئے نامزد امیدوار کو ابتدائی طور پر ۲۸؍ دن دیے جاتے ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر اس مدت میں مزید ۱۴؍ دن کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK