Updated: October 14, 2026, 3:39 PM IST
| Tehran
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات، سرکاری آمدنی اور معاشی ترقی کو شدید متاثر کیا ہے۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے مطابق ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں ملک کی سرکاری آمدنی میں ۴۲؍ فیصد کمی ہوئی۔ راس لفان کے توانائی مراکز کو نقصان اور قدرتی گیس کی ترسیل میں رکاوٹوں نے بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔
عالمی معیشت۔ تصویر:آئی این این
خلیجی خطے کی معیشتوں کو پہنچنے والا نقصان صرف تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے اثرات سرکاری خزانے، تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ایسکوا) کے اندازے کے مطابق جنگ کے پہلے مہینے میں عرب معیشتوں کو تقریباً ۱۵۰؍ ارب ڈالر کا نقصان پہنچا، جو خطے کی مجموعی گھریلو پیداوار کا لگ بھگ 4 فیصد ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے توانائی کی ترسیل کے ساتھ ضروری اشیا کی فراہمی اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ قطر اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خلیجی ممالک میں شامل ہے۔ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے منگل کو دوحہ میں شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور راس لفان صنعتی شہر میں توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان نے ملک کی برآمدات کے ایک بڑے حصے کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ فطری بات ہے کہ اس بحران کا سرکاری مالیات پر منفی اثر پڑے، کیونکہ سال کی پہلی ششماہی میں مجموعی آمدنی میں ۴۲؍ فیصد کمی ہوئی۔‘‘ ان کے مطابق بحران کے باوجود حکومت نے بنیادی عوامی خدمات اور ترقیاتی ترجیحات کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے نے مشہور شخصیت کا مقام برقرار رکھنے کے دباؤ پر سوال اٹھا دیا
قطر کی معیشت میں قدرتی گیس کی برآمدات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ جنگ کے دوران راس لفان صنعتی شہر میں ایران کے حملوں سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدی صلاحیت کو نقصان پہنچا، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹوں نے گیس کی عالمی منڈیوں تک رسائی محدود کردی۔ قطر، جو امریکہ کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس برآمد کرنے والا ملک ہے، اپنی توانائی کی ترسیل کے لیے اس اہم بحری راستے پر انحصار کرتا ہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف اس کی برآمدی آمدنی کو متاثر کیا ہے بلکہ یورپ اور ایشیا میں گیس کی فراہمی کے بارے میں بھی خدشات بڑھائے ہیں۔ قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹیو سعد الکعبی نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ایرانی حملوں سے قطر کی ایل این جی برآمدی صلاحیت کا تقریباً ۱۷؍ فیصد متاثر ہوا ہے۔ ملک کی ۱۴؍ گیس مائع بنانے والی پیداواری اکائیوں میں سے ۲؍ کو نقصان پہنچا، جس کے باعث سالانہ ۸ء۱۲؍ ملین ٹن گیس کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ ان تنصیبات کی مرمت میں ۳؍ سے ۵؍ سال لگ سکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ اس نقصان سے قطر کو سالانہ تقریباً۲۰؍ ارب ڈالر کی آمدنی سے محرومی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں حالات معمول پر آنے کے بعد بھی قطر کی گیس برآمدات فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں پہنچ سکیں گی۔
یہ بھی پڑھئے:آذربائیجان: اسکولوں میں حجاب پر پابندی کیخلاف مظاہرے، ۳۷؍ افراد گرفتار
جنگ کے اثرات کے بارے میں عالمی اداروں کے معاشی اندازے بھی تشویش ناک ہیں۔ عالمی بینک نے خلیجی ممالک کی معیشتوں میں ۲۰۲۶ء کے دوران اوسطاً ۳ء۴؍ فیصد سکڑاؤ کا اندازہ ظاہر کیا ہے، جبکہ اپریل کے تخمینے کے مقابلے میں معاشی منظرنامے میں ۷ء۵؍ فیصد پوائنٹس کی کمی آئی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور برآمدی حجم میں کمی اس صورت حال کی اہم وجوہات ہیں۔ قطر کے معاملے میں عالمی بینک نے رواں سال ۹ء۲۰؍ فیصد معاشی سکڑاؤ کا اندازہ لگایا ہے، جو اس ملک کی گزشتہ پانچ دہائیوں کی کمزور ترین معاشی کارکردگی ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے قطر کی مجموعی گھریلو پیداوار میں ۶ء۱۵؍ فیصد کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ دونوں اداروں کے تخمینوں میں فرق کے باوجود ان کا مشترکہ اشارہ یہ ہے کہ قطر کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ خلیجی ممالک کے لیے مسئلہ صرف توانائی کی پیداوار میں کمی نہیں، بلکہ عالمی منڈیوں تک مصنوعات پہنچانے کی لاگت اور سلامتی کے خطرات بھی ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو حملوں، تاخیر اور بیمہ اخراجات میں اضافے کا سامنا ہے۔ اس صورت حال نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق جیسے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو بھی اپنے برآمدی راستوں اور تجارتی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ستمبر میں ایران کے علاوہ خلیجی ممالک کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے ۸۱؍ فیصد سے زیادہ تک واپس پہنچ گئی تھیں، لیکن اس بحالی کے باوجود خطے میں جہاز رانی کے خطرات برقرار ہیں اور تیل کی ترسیل کی لاگت بلند ہے۔
قطر کی معیشت
قطر کی حکومت نے فوری بحران کے باوجود طویل مدتی معاشی منصوبوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ شیخ تمیم کے مطابق اگلے ۵؍ برسوں کے لیے تقریباً ۲۲۱؍ ارب قطری ریال، یعنی ۷ء۶۰؍ ارب ڈالر، مالیت کے سرمایہ کاری منصوبے اور مواقع موجود ہیں۔ ان میں بنیادی ڈھانچے، سرکاری و نجی شراکت داری، جائیداد اور مہمان نوازی کے شعبے شامل ہیں۔ حکومت کا مقصد توانائی کی برآمدات پر انحصار کم کرنا اور غیر توانائی شعبوں کی ترقی کو برقرار رکھنا ہے۔ امیرِ قطر نے کہا کہ بحران سے نکلنے کا مقصد صرف جنگ سے پہلے کی صورت حال بحال کرنا نہیں، بلکہ معاشی تنوع اور قومی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔ قطر کے شمالی میدان میں گیس کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ بھی مقررہ پروگرام کے مطابق جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ۲۰۳۰ء تک ملک کی سالانہ ایل این جی پیداواری صلاحیت ۱۴۲؍ ملین ٹن تک پہنچانا ہے۔ قطر امریکہ میں گولڈن پاس ایل این جی منصوبے پر بھی ایکسن موبل کے ساتھ کام کررہا ہے۔ تاہم ان منصوبوں کے طویل مدتی فوائد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ توانائی کی تنصیبات کی مرمت کتنی تیزی سے ہوتی ہے، بحری راستوں کی سلامتی کب بحال ہوتی ہے اور عالمی خریداروں کو مستحکم فراہمی کب میسر آتی ہے۔