Updated: March 27, 2026, 7:01 PM IST
| Washington
ایران جنگ کے دوران امریکہ کے اندر سیاسی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ایک امریکی کانگریس خاتون نے جنگی بریفنگ سے واک آؤٹ کیا، جبکہ وہائٹ ہاؤس کی پراسرار سرگرمیاں اور مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی تعیناتی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن کے اندر جنگی پالیسی پر مکمل اتفاق نہیں۔
(۱) امریکی کانگریس خاتون کا واک آؤٹ، ’ایک اور عراق؟‘ سوال اٹھایا
امریکی کانگریس خاتون نینسی میس نے ایران جنگ کے حوالے سے بریفنگ کے دوران واک آؤٹ کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا: ’’کیا ہم ایک اور عراق جنگ کی طرف جا رہے ہیں؟‘‘ میس نے کہا کہ امریکی عوام کو مکمل سچ نہیں بتایا جا رہا اور جنگی پالیسی پر شفافیت کا فقدان ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’ہمیں بغیر واضح حکمت عملی کے ایک اور تنازع میں دھکیلا جا رہا ہے۔‘‘ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کانگریس کے اندر اس معاملے پر اختلافات بڑھ رہے ہیں اور کئی ارکان جنگی حکمت عملی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ یہ واک آؤٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ کے اندر ایران جنگ پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: انجلینا جولی نے ایک بار پھر اہل غزہ کے لئے آواز بلند کی
(۲) وہائٹ ہاؤس کی پراسرار تصاویر، خفیہ ویڈیوز کے بعد نئی بحث
وہائٹ ہاؤس نے خفیہ ویڈیوز کے بعد کچھ پراسرار اور پکسلیٹڈ تصاویر جاری کی ہیں، جنہوں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان تصاویر میں واضح تفصیلات موجود نہیں، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ تصاویر کسی حساس آپریشن یا سیکوریٹی صورتحال سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ وہائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے وضاحت دینے سے گریز کیا، جس سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا: ’’یہ تصاویر آخر کیا ظاہر کر رہی ہیں؟‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران جنگ کے حوالے سے معلومات محدود رکھی جا رہی ہیں۔ یہ معاملہ امریکی حکومت کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی ہوائی اڈوں پر عملے کی قلت، مسافروں کو غیر معمولی تاخیر کا سامنا، ٹرمپ کا ڈیموکریٹس پر الزام
(۳) امریکہ مزید ۱۰؍ ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجے گا
رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں مزید ۱۰؍ ہزار فوجی بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ امریکی حکام نے کہا کہ یہ تعیناتی سیکوریٹی صورتحال کو مستحکم کرنے کیلئے کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فوجی مختلف اہم مقامات اور اڈوں پر تعینات کئے جائیں گے۔ ایک بیان میں کہا گیا: ’’ہم اپنے اتحادیوں کے دفاع کیلئے تیار ہیں۔‘‘ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مزید فوجیوں کی تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ جنگی تیاریوں کو کم کرنے کے بجائے بڑھا رہا ہے۔ یہ فیصلہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔