ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کھلنے کے دعوے کو ایرانی میڈیا نے ’’حقیقت سے دور‘‘ قرار دیا ، تاہم رپورٹ کے مطابق، آبنائے کا انتظام، راستے کا تعین، وقت، گزرنے کے طریقے اور اجازت نامے جاری کرنے کا اختیار خصوصی طور پر ایران کے پاس ہی رہے گا۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 5:20 PM IST | Tehran
ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کھلنے کے دعوے کو ایرانی میڈیا نے ’’حقیقت سے دور‘‘ قرار دیا ، تاہم رپورٹ کے مطابق، آبنائے کا انتظام، راستے کا تعین، وقت، گزرنے کے طریقے اور اجازت نامے جاری کرنے کا اختیار خصوصی طور پر ایران کے پاس ہی رہے گا۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’’فارس نیوز ایجنسی‘‘ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایک ممکنہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔ ادارے نے کہا کہ یہ بیان ’’حقیقت سے دور‘‘ ہے۔ فارس کے مطابق، تازہ تبادلہ شدہ متن سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ ایران کے کنٹرول میں ہی رہے گی، چاہے کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ ادارے نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد تنازع سے پہلے والی سطح پر واپس آ جائے گی، لیکن اس کا مطلقاً یہ مطلب نہیں کہ’’آزاد گزرگاہ‘‘ بحال ہو جائے گی۔بعد ازاں رپورٹ کے مطابق، آبنائے کا انتظام، راستے کا تعین، وقت، گزرنے کے طریقے اور اجازت نامے جاری کرنے کا اختیار خصوصی طور پر ایران کے پاس ہی رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے طاقت کا استعمال تنازع کو بڑھا دے گا‘‘
دریں اثناء فارس نیوز نے ٹرمپ کے پہلے کے بیان کو ’’نامکمل‘‘قرار دیا اور کہا کہ اس میں زیرِ بحث اصل شرائط کی عکاسی نہیں ہوتی۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا تھا کہ’’ امریکہ، ایران اور دیگر ممالک کے درمیان معاہدے پر زیادہ تر بات چیت طے پا چکی ہے اور یہ جلد مکمل ہو جائے گا۔‘‘یاد رہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامہ ای سمیت ۴۰؍ سے زائد اعلیٰ حکام اور عہدیدار شہید ہوگئے تھے، ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات اور اسرائیل کو میزائیل اور ڈرون سے نشانہ بنایا، اسی کے ساتھ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بندکردیا، جس سے دنیا میں ۲۰؍ فیصد تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی۔ تاہم ٹرمپ کی جانب سے متعدد بار اس کے کھلنے کا دعویٰ کیا جاچکا ہے،اور حالیہ دعویٰ بھی اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔